جمعہ، 31 دسمبر، 2010
Sal ka AaKhari din
یہ نئے سال کا جشن منانے کا حق صرف بھرے پیٹ اور کھلے دل و دماغ والوں کو ہے۔ اور ہم لوگ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اتوار، 26 دسمبر، 2010
Noon Meem Rashid ki Nazam
اتوار، 19 دسمبر، 2010
FastestFox
شور نے کہیں لوگوں سے سن رکھا تھا کہ موزیلا کا فائر فوکس استعمال کرو یہ باقی براوزر سے زیادہ تیز ہے۔ شور نے ڈاؤن لوڈ کرکے استعمال کیا۔ واقع رفتار میں کچھ تیز تھا۔ پھر اِس سائٹ سے یہ پتا چلا کہ فائر فوکس کو اور تیز کرنے کے لئے یہ ایڈ اُن استعمال کرو۔ایڈ اُن انسٹال کر کے چیک کیا تو زیادہ تیز دیکھنے میں نہیں آئی۔ پھر شور نے ایک اور ایڈ اُن ڈھونڈا اور انسٹال کرکے دیکھ لیا۔ اس ایڈ اُن نے فائر فوکس کو سچی میں تیز کردیا۔ اِس ایڈ اُن کی وجہ شور اگلے صفحہ، اگلے صفحہ کی مصیبت سے بچ گیا ہے۔ کیسے خود ہی تجربہ کیجئیے۔
جمعہ، 17 دسمبر، 2010
sms fraud
From:+923327362363
2010/12/17
09:23AM
یہ ایس ایم ایس پڑھ کر شور کو کچھ رحم آگیا۔25 روپے بھی کوئی رقم ہے۔ شور اُس نمبر والے یا والی کو رقم بھیجنے کے لئے تیار ہوگیا۔ لیکن ایک خیال نے شور کو روک دیا۔ جس موبائل فون سے یہ محترم یا محترمہ نے ایس ایم ایس کیا اگر وہ اپنا موبائل فون کو اپنے آس پاس کے کسی بندے کو خریدنے کی آفر کرے۔ تو شور کو یقین ہے کہ کم سے کم سو روپے تو مل ہی جائیں گے۔
شور نے اِس ایس ایم ایس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ کیا جواب دیتا۔ آپ ہوتے تو کیا جواب دیتے۔
بدھ، 15 دسمبر، 2010
Bbcurdu Mobile Bulletin
یہ ہوا بی بی سی اردو سروس کی خوش خبری ۔ اب پڑھئیے شور کی داستان۔
ایک دن شور نے اپنے موبائل فون سے بی بی سی اردو سروس سننے کے لئے نمبر ڈائل کیا کمپیوٹر صاحبہ کہنے لگی کہ نمبر غلط ہے۔ تین چار دفعہ ڈائل کیا۔ پر کمپیوٹر صاحبہ نے ڈانٹ دیا کہ آپ نے جو نمبر ڈائل کیا ہے وہ صیحح نہیں ہے۔ شور سمجھا شاید نمبر کچھ اور ہے اور وہ غلط نمبر ڈائل کررہا ہے۔(نمبر سچی میں غلط تھا) شور نے ہمت کر کے وارد نیٹ ورک سروس کے ہلپ لائن سے رابطہ کیا۔ ہلپ لائن والے بندے نے کہا کہ ہمارے پاس اس طرح کی کوئی معلومات نہیں ۔ کہ بی بی سی اردو سروس والوں نے ایسا کوئی سروس شروع کی ہے۔ شور نے ہلپ لائن والوں کو معلومات فراہم کی جناب بی بی سی اردو والوں نے یہ سروس شروع کئے ہوئے دو تین مہینے ہو چکے ہیں۔ ہلپ لائن والے نہیں مانے۔ اور یہی فرمایا کہ شاید دوسرے نیٹ ورک میں یہ سہولت ہو لیکن وارد میں نہیں ہے۔
مجبوراً شور نے موبائل کو جیب میں رکھ کر صبر کرلیا۔
چند دن پہلے شور کو ایک شناسے نے معلومات دی کہ میں نے ٹائم پاس میں بی بی سی اردو سروس کی خبریں موبائل فون سے سنی۔ جس نے بیلنس کا صفایا کردیا۔ یار یہ بی بی سی سروس والے بھی نا ٹیلی فون نمبر بتاتے وقت یہ نہیں بتایا کہ خبریں سننے کے لئے چارجز کتنے لگیں گے۔ اگر پہلے پتا ہوتا بیلنس کا یہ حال ہوگا تو خبریں سننے کے بجائے پیکج کر کے کسی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سے بات کر لیتا ۔
آج بی بی سی اردو سروس کے ویب سائٹ میں شور کی نظر اُس نمبر پہ پڑی تو یہ سارا کچھ یاد جو اوپر بیان ہوا۔ شکر ہے اُس دن شور کا نمبر غلط تھا ورنہ آج شور بھی یہی رو رہا ہوتا کہ یہ بی بی سی اردو سروس والے بھی نا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پیر، 13 دسمبر، 2010
Complete Business Man
ہفتہ، 11 دسمبر، 2010
Naraz Savera Hai
جمعرات، 2 دسمبر، 2010
Follow Me, I Follow You
وہ اگر اردو نہیں جانتے تو ہم بھی انگریزی نہیں سمجھتے۔ لیکن پھر بھی فالو تو کر رہے ہیں ایک دوسرے کو ،یہی بہت ہے۔
اتوار، 28 نومبر، 2010
kerdar
جمعہ، 19 نومبر، 2010
Sahib-e-hasiyat
"نہیں کیا ہوا ہے؟"
"کل کے پوسٹ میں آپ نے تحریر کیا تھا کہ ٹمپلیٹ میں آر۔ آر۔ ایس فیڈ کی کمی ہے۔ لیکن اِس میں تو آر۔ آر۔ ایس فیڈ موجود ہے۔"
"اچھا، لگتا ہے آج کل میرا دھیان کچھ بٹا ہوا ہے "
"کیا پریشانی ہے۔"
"میں یہ سوچ سوچ کر کچھ پریشان ہوں کہ عید قربان جو مسلمانوں کے لئے ایک خوشی کا دن تھا۔ اب دکھاؤے کا دن بن گیا ہے۔ بڑے بڑے صاحب حیثیت لوگ اپنے پیسے کی طاقت کا بھرپور طریقے سے دکھاؤا کرتے ہیں۔ عید کے موقع پر صرف یہ سننے کو ملتا ہے کہ کس نے کتنے ہزار کتنے لاکھ روپے میں قربانی کا جانور خریدا ہے۔ کس نے کتنے جانور قربان کئے۔ اپنے سب سے پیاری چیز کو اللہ تعالٰی کی راہ میں قربان کرنے کا جو واقع عید الضٰی کی وجہ بنا تھا اب وہ شاید ختم ہوتا جارہا ہے۔ دلوں کا حال تو اللہ پاک بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اب عید قربان میں صرف یہ دکھائی دیتا ہے کہ کوئی کتنا صاحبِ حیثیت ہے۔"
بدھ، 17 نومبر، 2010
Eid ul Azha
آپ سب کو عید کی ڈھیر ساری خوشیاں مبارک ہو۔
پیر، 15 نومبر، 2010
kam
اتنا تو وقت دے کہ اُسے یاد کرسکوں
آجکل شور کی ذہنی کیفیت کا اظہار اس شعر سے بہتر نہیں ہوسکتا ۔
پیر، 8 نومبر، 2010
Nayab Shaye
پیر، 1 نومبر، 2010
Aas pass hai Khuda
چلو راحت فتح علی خان کا ایک اور گیت سنتے ہیں جو نئی فلم "انجانا انجانی" سے ہے۔
فلم:۔ انجانا انجانی
میوزک:۔ ویشال شیھکر
بول:۔ ویشال
اس خوبصورت گانے کو اِس لنک سے ڈاؤن لوڈ کریں۔
آس پاس ہے خدا
اتوار، 31 اکتوبر، 2010
Shor's Brithday
جمعہ، 29 اکتوبر، 2010
Subeh ka Bhola
آپ سوچ رہے ہیں کہیں دن غائب ہونے کے بعد شور یہ محاورہ کی ٹانگ کیوں تھوڑ رہا ہے۔ بات دراصل یہ ہے۔ کہ شور نے اپنے اور بلاگ کے درمیاں ایک رابطہ پل بنایا تھا۔ جو سیلاب سے تو بچ گیا مگر کچھ مہربان لوگوں کی وجہ سے وہ بہہ گیا۔ اُس پل کے تعمیر ہوتے ہوتے اتنے دن بیت گئے اور شور آج حاضر ہوا ہے۔ ویسے بھی ہر بھولے بھٹکے روح کی طرح شور کی دوڑ بھی بلاگ تک ہے۔ اس سے آگے شور کو رستہ ہی نہیں معلوم تو جائے گا کیسے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جمعرات، 19 اگست، 2010
Maay Baap
بدھ، 18 اگست، 2010
Ramadan-al-Mubarak
بدھ، 4 اگست، 2010
kiya tum bhi
کیا تم بھی
شام کی دہلیز پہ آس کا دیپ جلاتے ہو
اور کسی آوارہ پتے کی آہٹ پر
دروازے کی طرف بھاگ جاتے ہو
کیا تم بھی
درد چھپانے کی کوشش کرتے کرتے
اکثر تھک سےجاتے ہو
بلا وجہ مسکُراہنے لگتے ہو
کیا تم بھی
نیند سے پہلے پلکوں پہ ڈھیروں خواب سجاتے ہو
یا پھر بستر پہ لیٹ کر
روتے روتے سو جاتے ہو
کیا تم بھی
کسی کو دل کی گہرائیوں سے چاہتے ہو!!!
پیر، 2 اگست، 2010
circus ka shear
یہ دنیا اب ہمیں سرکس کا شیر کردے گی
اِس شعر کو نظروں کے سامنے گزے دو تین سال ہو چکیں ہیں۔ لیکن آج بھی ذہن پہ یہ اٹکا ہوا ہے۔ چلو اِس کو بلاگ کے حوالے کرکے دیکھتے ہیں شاید یہ ذہن سے نکل جائے۔
جمعہ، 30 جولائی، 2010
na shukray
بدھ، 28 جولائی، 2010
One Tips
لیکن یہ اِس پوسٹ کی وجہ نہیں ہے۔ تو وجہ کیا ہے۔ ناراض نہ ہوجائیے۔ ابھی بتادیتے ہیں۔
چند دنوں سے شور کا نیٹ بیمار ہے۔ نیٹ کی نبض اتنی کمزور ہے۔ کہ مرگ کا کَٹکا لگا رہتا ہے۔ کسی بھی سائٹ کا اوپن ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ پر اَس زمانہ میں اگر فرہاد کے تیشئے میں دم کم نہیں ہے ۔ تو کیا ہوا ۔ اور بازار سے لے آئیں گے اگر سستا ہوا دودھ ۔ (پریشان مت ہوجائیں آج شور دیوانِ غالب پڑھ رہا تھا۔) ویسے بازار جانے کی ضرورت نہیں ۔ اگر آپ کا نیٹ کی رفتار بہت سلو ہے۔ اور آپ کے یہ تینوں سائٹ اوپن ہونے میں بہت دیر لگا رہے ہیں۔ یا آپ جلدی میں اِن سائٹس کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ تو اِس ترکیب کو استعمال کیجئیے ۔
یاؤ کے لئے ٹائپ کریں۔
http://sg.m.yahoo.com/
فیس بک کے لئے ٹائپ کریں۔
http://m.facebook.com/
اور ٹیوٹر کے لئے ٹائپ کریں۔
http://m.twitter.com/
پیر، 26 جولائی، 2010
No Comments
شور! یہ “اُسے” “کسے”ھم جان سکتے ہیں۔
نہیں۔کبھی نہیں۔
Tomorrow Today
کل
“شور! دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں جو مجھے بدل سکے”
آج
“شور! بیوی صرف دو باتیں بول دے نا انسان کی سات پشتیں بدل جاتی ہیں۔”
Bad Post
اُس انجانےدوست کی باتوں سے مجھے بہت حوصلہ ملا۔ اور میں دوبارہ لکھنے کے بارے میں سوچنے لگا۔
یہ تو اچھی بات ہے شور! کہ کسی نے آپ کی حوصلہ افزائی کی ۔ لیکن اداس کیوں ہو۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہیئے۔
لیکن کل ایک انگریزی پیپر میں، میں نے کچھ ایسا پڑھا کہ مجھے اپنے تمام تحریر بکواس لگنے لگی۔ اور میرا دل چاہ رہا ہے کہ اب تک جتنا بھی میں نے لکھا ہے۔ اُن کو اٹھا کر کھڑکی کے باہر پھینک دوں۔
لیکن شور! ساری تحریریں تو کمپیوٹر پہ سیو اور انٹر نیٹ پہ پبلیش ہیں۔ میرے کمپیوٹر کو کھڑکی کے باہر پھینک دینا چاہتے ہو تو پھینک دو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ انٹر نیٹ پہ وہ تحریریں تو ہیں۔ اور اگر انٹرنیٹ کو کھڑکی سے پھینکنے کا آئیڈیا دماغ میں آرہا ہے۔ تو مجھے ضرور بتا دینا تاکہ میں بھی اُس پہ عمل کر سکوں۔
کچھ دیر کے لئے خاموشی چھا گئی۔
میں پھر کہنے لگا۔
شور آپ کو کسی نے کہا ہے۔ کہ آپ کی تمام تحریریں بکواس ہیں۔
نہیں۔
تو پھر ۔ کس بناء پر آپ اپنی تحریروں کو ضائع کرنا چاہتے ہو۔ اور ہاں وہ انگریزی پیپر اگر آپ کے پاس ہے۔ تو دکھاؤ
شور نے جیب سے ایک اخبار کا ٹکڑا نکال کر میرے حوالے کیا۔
Read, read, read. Read everything___trash, classics, good and bad, and see how they do it. Just like a carpenter who works as an apprentice and studies the most. Read! You’ll absorb it. Then write. If it is good, you’ll find out. If it’s not, throw it out the window.
(William Faulkner)
شور یہ بڑے لوگ کی بڑی باتیں صرف بڑے لوگوں کے لئے ہیں۔ ہم جیسے لوگوں کے لئے نہیں۔ چلو باہر چلتے ہیں۔
میں شور کو ساتھ لے کر باہر نکل گیا۔ کچھ دیر چلنے کے بعد میں نے اپنے جیب سے ایک کاغذ نکال کر چپکے سے پھینک دیا۔
جمعہ، 16 جولائی، 2010
shor is missing
چلو شور کو اُس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اتنا تو مجھے یقین ہے۔ وہ لوٹ کر ضرور آئے گا۔
منگل، 1 جون، 2010
powerful
اتوار، 16 مئی، 2010
Aaye Khuda-salim marchant
وہ بے وقوف کون ہے۔ یہ آپ تو جان ہی گئے ہیں۔ اگر نہیں تو بتا دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شور
وہ سونگ کون سا تھا یہ تو شور بتانا بھول گیا۔
سلیم مرچنٹ( انڈین آئیڈل 5 کے جج) کے آواز میں فلم کا نام ہے۔
پاٹ شالا
اے خدا
جمعہ، 14 مئی، 2010
powerful people
طاقتور اُس انسان کو کہتے ہیں۔ جو پورے دنیا کے سامنے جرم کرے۔ پھر بھی قانون کے گرفت میں نہ آئے۔
اتوار، 9 مئی، 2010
Meri Maa
ہفتہ، 8 مئی، 2010
Shor
اورآج شور بہت پریشان ہے۔ اور فل والیم میں گانے سن رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بدھ، 5 مئی، 2010
labour day
پیر، 26 اپریل، 2010
twitterfeed
شور نے فوراً اُس سائٹ پہ سائن اِن ہوکر تجربہ کرلیا۔ اور شور کو سائٹ بہت پسند آیا۔
سائٹ کا لنک یہ ہے۔
ٹویٹر فیڈ
Biggery Log
مگر ھم لوگ کبھی بھی اِس بات کے بارے میں نہیں سوچتے۔ آخر سوچیں بھی تو کیوں ۔ ۔ ۔ھم لوگ اپنے بچوں کو معاشرے کا ایک اچھا فرد بنانے سے زیادہ اِس کو شش میں لگے ہوئے ہیں۔ کہ وہ ایک کامیاب فرد ہو۔ بلے وہ اچھا نہ ہوا۔ کامیاب ہونے کے لئے اُس نے جو بھی کیا ہو۔ دھوکہ ، جھوٹ، فریب، کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر کامیاب ہے۔ اُس کے جیب میں پیسہ ہے۔ بس ۔ ۔ ۔ ۔ پھر وہی شخص جب کسی اپنے سے بھی دھوکہ ، جھوٹ ، فریب کا فارمولا استعمال کرتا ہے۔ تو سب اُس کو بُرا کہنا شروع کردیتے ہیں۔ اب قصور کس کا ہے۔ اُس بچے کا یا اُن لوگوں کا ؟
بدھ، 21 اپریل، 2010
School age
اپنا حال دیکھ کر وہ خاتون نئے شادی شدہ جوڑوں کو یہ مشورہ دیتی ہے۔ کہ وہ جب بھی بچے پلان کررہے ہوں تو اسکول والوں کے مقرر کردہ عمر کو ضرور دھیان میں رکھیں۔
تعلیم کا کیا حال ہوگیا ہے۔

پیر، 19 اپریل، 2010
Zameer
اتوار، 18 اپریل، 2010
Gori teri aakhian
اگر آپ کو بھی یہ خوبصورت گیت سنا ہے۔ تو درج ذیل لنک پر کلک کریں۔
گوری تیری آنکھیں
اتوار، 11 اپریل، 2010
mohabbat
"شور! محبت کے بارے میں معاشرے کا رویّہ کیا ہے۔ اچھا یا بُرا۔ "
شور نے مجھے غور سے دیکھا پھر کہنے لگا۔
"اچھا بھی ہے اور بُرا بھی۔"
"یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اچھا بھی اور بُرا بھی؟"
"جب کوئی خود کسی سے محبت کرتے ہو تو بہت ہی اچھا فعل ہے۔ لیکن جب کوئی اُس کے کسی رشتے دار سے محبت کرتا ہے تو بہت ہی بُرا فعل ہے۔
ہفتہ، 10 اپریل، 2010
GreaseMonkey add-ons for blogger
فائر فوکس کے ایڈ آن کو انسٹال کرنا بھی آسان ہے۔ سب سے پہلے ٹول مینو میں سے ایڈ آن کو سلیکٹ کریں۔ گیٹ آیڈ آن کے سرچ بکس مین گریسی منکی ٹائپ کریں۔ جب یہ ایڈ آن سرچ ہونے کے بعد اُس ایڈ آن کو انسٹال کریں۔ آپ کو براؤ زر ری اسٹارٹ کرنے کو کہا جائے گا۔ فائر فوکس کو ری اسٹارٹ کریں۔ پھر اِس جاوا اسکرپٹ فائل کو انسٹال کریں۔
اب اپنے بلاگر اکاؤنٹ پر لاگ آن ہوجائے۔ نیو پوسٹ کے کمپوز موڈ میں آپ کو کچھ سمائل نظرآئیں گے۔ تو جائے اور اِس نئے ایڈ آن کو استعمال کیجئیے۔
بدھ، 7 اپریل، 2010
shoaib malik sania mirza
اگر شعیب ملک ایک کرکٹر نہ ہوتا اور ثانیہ مرزا ٹینس کی کھیل سے تعلق نہ رکھتی تو دونوں کی شادی کے مسئلے پر اتنا ڈرامہ ہوتا؟؟ شاید نہیں ۔
آخر میں اک بات شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کے اِس ڈرامے کو دیکھ کر شور کہ سمجھ میں بس اتنا آرہا ہے کہ یہ دونوں کے کھیل کے میدان میں کامیابی کا گراپ مسلسل نیچے کیوں جارہا ہے۔
منگل، 30 مارچ، 2010
Heroism
اتفاق سے شور کا وہ واقف کار اُس شاعر کا بہت ہی بڑا فین نکلا تھا۔بُرا مان گیا۔ شور نے صفائی دی کہ جناب یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں۔ بلکہ اِس کتاب میں درج ہے۔ لیکن وہ صاحب کہاں منانے والے تھے۔ فوراً کہنے لگے کہ اِس کتاب کا مصنف ضرور شاعرکے کسی مخالف گروہ سے تعلق رکھتا ہوگا۔ شور نے چھپ رہنا ہی مناسب سمجھا۔ کسی فین کے سامنے اُس کے ہیرو پر تنقید کرنا ، آبیل مجھے مار کے مترادف ہے۔
اُس واقف کار کے جانے کے بعد شور نے سوچا کہ کسی کو اپنا ہیرو مت بناؤ ۔ کیونکہ ہیرو بنانے کے بعد آپ اپنے ہیرو کے بارے میں کچھ بھی بُرا سننے کو تیار نہیں ہونگے۔
بدھ، 24 مارچ، 2010
shor ka damag kharab hai
ہفتہ، 13 مارچ، 2010
purani dairy
اک پرانا خط کھلا انجانے میں
وجہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وجہ یہ ہے کہ آج پرانے اخباروں کے نیچے شور کو اپنا اک پرانا رائٹنگ پیڈ مِلا۔ پیڈ میں کچھ پرانی تحریریں، کچھ اشعار اور کچھ چھوٹے چھوٹے نوٹس جو مختلف کتابوں سے لئے تھے ملے۔ اِن کو پڑھ کر شور ماضی کے کچھ خوشگوار یادوں میں کھوگیا۔
شور یہ سوچ رہا ہے کہ ڈائری لکھنا بھی کتنا اچھا کام ہے۔ یہ وہ لکھنا ہے جسے انسان بغیر کسی غرض کے لکھتا ہے۔ انسان اور لکھنے کا ساتھ تو ویسے ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔ اسکول کے ہوم ورک سے لے کر نوکری کے درخواست تک ، روزی روٹی کے لئے کبھی کسی فائل پر قلم گھسیٹنا ہو یا دیواروں پر نقش و نگار کرنا سب لکھنا ہے۔ لیکن ہر لکھنے میں خوشی سے زیادہ مجبوری ہے۔ اگر خوشی کا عنصر ہے تو بہت ہی کم۔ لیکن ڈائری میں لکھنا آپ کی مجبوری نہیں ہے۔ یہ آپ کی چاہت ہے، خوشی ہے۔ آج اگر آپ اپنے ڈائری میں کسی چیز کے بارے میں کچھ بھی لکھتے ہیں۔ چند سال کے بعد اگر وہی لکھا آپ کو دوبارہ پڑھنے کو مل جائے تو اک عجیب سی خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ اور کسی بھی احساس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
منگل، 9 مارچ، 2010
Ahmaq log
"تم کو فلمیں دیکھنے کا شوق کیوں نہیں ہے"
دوست نے مسکرا کر جواب دیا
"اُس فلم کے دیکھنے کا کیا فائدہ جب ہر فلم کے اختتام پر ہیرو کو کامیابی ملنا ہے "
ویسے بھی کچھ لوگ احمق ہوتے ہیں۔
لیکن کون لوگ ؟ ؟ ؟
اتوار، 7 مارچ، 2010
جمعرات، 4 مارچ، 2010
ker bala tu..
اگر کوئی کسی کے ساتھ اچھے کریں اور مسلسل اچھا کرتے جائیں۔ اور وہ اِس اچھے پن کا بدلہ فریب سے دے۔ تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اِسے شخص کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں۔ یہ آپ جانیں لیکن شور یہی سمجھتا ہے ۔ کہ جو اچھا کرتا ہے زندگی میں کسی نہ کسی موڈ پہ اُس کا صلہ ضرور ملے گا۔ ہوسکتا ہے دیر سے ملے۔ لیکن ملے گا ضرور
یہ کتابیں باتیں نہیں ہیں ۔ بلکہ چند دنوں سے شور اپنے اردگرد کے کچھ لوگوں کو دیکھ کر کہہ رہا ہے۔
منگل، 23 فروری، 2010
Aman ki Asha
پاکستان اور بھارت کے دو بڑے میڈیا گروپ نے اس سال "امن کی آشا" کے نام سے اک مہم شروع کیا ہے۔ جنگ نیوز کے بلاگ پر اِس بارے میں یہ پوسٹ موجود ہے۔
امن کی آشا
"امن کی آشا" مہم کے سلسلے میں اک خوبصورت گیت بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جس کو بھارت کے مشہور سنگر شنکر مادیون اور پاکستان سے راحت فتح علی خان نے اپنی آواز دی ہے۔ اِس خوبصورت گیت کے شاعر کون ہیں یہ تو شور کو پتا نہیں۔ جیوٹی وی پر یہ گیت کہیں بار پلے ہوچکا ہے۔ لیکن شور اِس گیت کو اپنے کمپیوٹر پر بھی سننا چاہتا تھا۔ چند سائٹ چیک کرنے کے بعد یہ گیت مل گیا۔ اب اِس گیت کے لیرکس حاضر ہیں۔
دیکھائی دیتے ہیں دورتک اب بھی سایے کوئی
مگر بلانے سے وقت لوٹے نہ آئے کوئی
چلو نا پھر سے بچائیں دریّاں بجائیں ڈھولک
لگا کہ مہندی سریلی ٹپے سنائے کوئی
پتنگ اُڑائے چھتوں پہ چڑھ کے محلے والے
فلک تو سانجا ہے اُس میں پیچیں لگائے کوئی
اٹھو کبڈی کبڈی کھیلیں گے سرحدوں پر
جو آئے اب کہ تو لوٹ کر پھر نہ جائے کوئی
نظر میں رہتے ہو جب تم نظر نہیں آتے
یہ سُر بلاتے ہیں جب تم ادھر نہیں آتے
نظر میں رہتے ہو جب تم نظر نہیں آتے
یہ سُر بلاتے ہیں جب تم ادھر نہیں آتے
اور اس گیت کو یہاں سے ڈائون لوڈ کریں
امن کی آشا
جمعرات، 18 فروری، 2010
kiya kaha
ایک مشہور قول ہے۔
"کس نے کہا ہے یہ مت دیکھو، بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہا ہے۔"
لیکن اِس قول پر شاید ہی کبھی کسی نے عمل کیا ہو۔ لوگ اکثر یہ دیکھتے ہیں کہ" کس نے کہا ہے۔"اگر کہنے والا کوئی بڑا نام ہے تو ضرور صحیح کہہ رہا ہے۔ لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ ہر بڑا اور مشہور نام صحیح کہے۔ اور ہر غیر معروف شخص جھوٹا ہو۔ ہوسکتا ہے بڑے نام والے نے اب اچھا کہنا چھوڑ دیا ہے۔ اب وہ اپنے کہے پر زیادہ دھیان نہیں دیتا۔ بس جو منہ میں آتا ہے کہہ دیتا ہے۔ ہوسکتا ہے اُس مشہور شخصیت نے اب زیادہ غور فکر کرنا چھوڑ دیا ہو۔ وہ صرف سطحی باتیں کرنے لگا ہو۔ اور کوئی اُس کی شہرت اور بڑے نام کی وجہ سے اُسے کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اگر کسی کم تجربے کار شخص اُس کی غلطیوں کی نشاندہی کرے تو سارے لوگ اُس بدنصیب کو تب تک ہدفِ تنقید بناتے رہیں گے۔ جب تک کہ وہ اپنی غلطی مان نہ لے۔ شاید ہی کوئی یہ دیکھنا گوارا کرے گا۔ کہ اُس بے چارے نے جن جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ وہ صحیح بھی ہیں یا نہیں۔
دوسروں کی بات کو چھوڑئیے سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھئیے ۔ آپ نے اپنی زندگی میں جتنے بھی تحریریں، تقریریں پڑھی یا سنی ہیں اُن میں زیادہ تر کے نام سے آپ پہلے واقف تھے یا ہیں۔ کیونکہ آپ کے نزدیک یہ زیادہ اہم ہے۔ کہ "کس نے لکھا ہے"۔ پھر اُس "کس" کے نام کو آپ تولے گے۔ جو جتنا مشہور ہوگا آپ اُتنے شوق سے اُس کی تحریر یا تقریر کو پڑھے گیں۔
منگل، 16 فروری، 2010
SMS
موبائل فون ہے تو ایس ایم ایس کا ملنا لازمی ہے۔ چاہے آپ خود کسی کو ایس ایم ایس کریں۔ یا نا کریں۔ شور کو بھی چند دن پہلے ایک ایس ایم ایس ملا ۔ شور اِسے آپ کے ساتھ شیئر کررہا ہے۔
Naqqalon se Hoshyar
Asli SMS
ki Pehchan
Humara
har
SMS
Unnokha
Naya
Or
Ap k Meyar k
Mutabiq
hota hai
Puranay
Ghisay
Pitay
Or
Bazari
SMS Se
Parhaiz kijiye
Gum
Salgira
Bewafai
Funny
Hr veriety k liye Booking
ki jati hai
Neeeeeez....
Shadi Biya k liye
SMS order py tyar kiye jatey hain
اتوار، 14 فروری، 2010
Happy Valentines Day
موبائل کمپنی والے بار بار یہ بتا رہے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے آرہا ہے۔ اپنے پیارے کو کوئی پیار بھرا پیغام بھیج دئیے ۔ شور یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ یہ ویلنٹائن ڈے کیا بلا ہے۔ ایک پادری ویلنٹائن کی یاد میں سارے دنیا کے لوگ اِس دن کو مناتے ہیں۔ اُور اِس کے قصے میں کتنی حقیقت ہے۔ جھوٹ کتنا ہے۔ کیا دنیا میں یہی پہلا شخص تھا جس نے محبت کے لئے جان دے دی۔ شاید نہیں۔ لیکن کیونکہ مغرب کے لوگ 14 فروری کو محبت کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ اور ہم ٹھرے مغرب کے پیروکار بناء کچھ سوچے سمجھے بڑے جوش اور جذبے سے اِس محبت کے دن کو مناتے ہیں تو کیا غلط کرتے ہیں۔ موبائل فون کمپنی والوں کو لوگوں کی بیلنس پہ ہاتھ صاف کرنا ہے۔ ٹی وی چینل والوں کو اپنے ناظرین کو بے وقوف بنانے کا اک اور موقع مل رہا ہے۔ اور شور کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے بلاگ کے لئے ایک اور پوسٹ ۔
تو ہیپی ویلنٹائن ڈے
جمعہ، 12 فروری، 2010
Blog Anniversary
شور کا بلاگ اب ایک سال کا ہوگیا ہے۔ اور پتا ہی نہیں چلا۔ اس میں شور کی کیا غلطی ہے۔ آج کل وقت ہی اتنا تیزی سے جارہا ہے۔ کہ کچھ پتا نہیں چلتا کہ کب مہینہ گزر گیا کب سال ہوگیا۔ 3 فروری کو بلاگ کا سالگرہ تھا جو شور بھول گیا۔ آج منا رہا ہے۔ اس خوبصورت کارڈ کے ساتھ جو گوگل پہ ڈھونڈا ہے۔
شور کی طرف سے شور کے بلاگ کو اپنا پہلا سالگرہ مبارک ہو۔
بدھ، 10 فروری، 2010
kis liye likhon
شور جب بھی کسی سے کہتا ہے کہ وہ نیٹ پر بلاگ لکھتا ہے تو وہ شخص شور پر ہستا ہے ۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ انٹر نیٹ پر لکھنا وقت کا برباد کرنا ہے۔ نیٹ پر صرف لڑکیاں سے گپیں لگا نا ہی بہترین ہے۔ روز چیٹ روم میں نئے دوست بنائو ۔ فیس بک میں باتیں کرو۔ اس کے علاوہ یو ٹوب پر ویڈیو دیکھو۔ اپنے دوستوں کی باتوں کو سن کر شور کچھ دن کے لئے یہی کام کرنے لگتا ہے۔ اُس کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔ او وہ بلاگ سے دور ہوجا تا ہے۔ لیکن پھر وہ بور ہو کر واپس بلاگ لکھنے بیٹھ جاتا ہے۔ کیونکہ شور یہی سوچتا ہے۔ چیٹ روم میں وقت برباد کرنے سے بہتر نہیں کہ وہ کچھ سوچے اپنے خیالات کو یک جاہ کرے ۔ اُنھیں سمیٹے ۔ شور کے نزدیک یہ غلط بھی نہیں ہے ۔ اَس سے کسی انسان کو یہ بھی پتا لگ جاتا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔
جمعرات، 4 فروری، 2010
FireFox's-Add-ons for Rapidshare
انٹرنیٹ پہ ڈاؤن لوڈنگ کرنے والوں کے لئے ریپڑ شیئر کا نام نیا نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگ اِس کا استعمال کرچکے ہیں۔ ریپڑ شیئر پہ اگر آپ فری اکاؤنٹ کا استعمال کیا ہے۔ تو آپ کو یہ ضرور پتا ہوگا۔ کہ فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد دوسرا فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے بہت انتظار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر آپ فائر فوکس براؤزر استعمال کررہے ہیں۔ تو فائر فوکس میں اک بہت اچھا ایڈان ہے۔ جیسے استعمال کرکے آپ ریپڑ شیئر پہ اک فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد دوسرے فائل کچھ سیکنڈ کے بعد ڈاؤن لوڈ کر پائیں گے۔ یہ ایڈ آن کو حاصل کرنے کے لئے فائر فوکس کے ٹول مینو میں جاکر ایڈ ان پر کلک کریں۔
پھر گیٹ ایڈ ان کے ٹیب پر کلک کریں۔
سرچ بکس میں سکریپ اسکرین لکھ کر انٹر کریں۔
اسکریپ اسکرین کا انسٹال کریں۔
براؤزر کو ری اسٹارٹ کریں۔ پھر ریپڑ شیئر پر رکھے کسی فائل کا لنک اوپن کریں۔ لنک کے نیچے لیف سائیڈ پر اک بار نظر آئے گا۔ کچھ دیر کے بعد آپ سے ڈاؤن لوڈ ہونے والے فائل کو محفوظ کرنے کو کہا جائے گا۔ اپنی پسندیدہ لوکیشن پر فائل کیجئیے۔
اور شکریہ ادا کیجئیے ۔ شور کا نہیں بلکہ اِس سائٹ کا جس نے یہ خوبصورت ٹپس دیا تھا۔
http://blog.brothersoft.com/2010/01/26/download-from-rapidshare/
پیر، 1 فروری، 2010
Shor tu pagal hai
چند دنوں سے شور یہ سن رہا ہے۔ کہ ہم دنیا میں دوسرے لوگوں کی مدت کرنے کے لئے آئے ہیں۔ شور نے اپنے اُس مہربان سے پوچھا کہ دوسرے کس لئے آئے ہیں۔ جواب ملا۔ ہر اک دوسرے کے کام کرنے کو آیا ہے۔ اور دوسرے ، تیسرے کا، تیسرا چوتھے کا، یہی دوسرا تیسرا چوتھا کرتے ہوئے گنتی بہت دور تک جائے گا۔ لیکن شور نے اک بے وقوفانہ سوال کیا۔ اِس گنتی میں اُس پہلے کا نمبر کب آئے گا۔ یا پہلا، نیکی کرکے بھول جائے۔ یا انتظار میں بیٹھ جائے کہ کب کوئی آئے اور اُس بے چارے پہلے کے ساتھ کچھ اچھا کرے۔ اور اگر اُس پہلے کا نمبر آتے آتے اتنی دیر ہوجائے جب وہ پہلا صرف اک نمبر رہ جائے۔ تو جانتے ہو جواب کیا ملا۔ شور تیرا تو دماغ خراب ہے۔
جمعرات، 28 جنوری، 2010
social networking site
انٹر نیٹ پر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ۔ یہی سمجھ میں آتا ہے کہ موجودہ دور کا انسان خود کو کچھ زیادہ ہی تنہا محسوس کرنے لگا ہے۔ آج کے دور میں جو بھی انٹر نیٹ کا استعمال کرتا ہے۔ اِن میں اکثریت ایسے ہیں جو صرف اور صرف نئے دوست بنانے، یا پرانے دوستوں سے بات کرنے کے لئے کسی نہ کسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر جاتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہوتے ہیں۔ اک آسان سا سوال ۔۔ اور اِس آسان سے سوال کا شور کے پاس سیدھا سا جواب ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں۔ جن کے آس پاس تو لوگوں کی بھیڑ ہے۔ لیکن اُس بھیڑ میں اُنھیں ایسا کوئی بھی نظر نہیں آتا جن سے یہ لوگ اپنی دل کی بات کرسکیں۔ اُنھیں کچھ سنا سکیں ۔ اُن سے کچھ سن سکیں۔ اُنھیں اپنے گھر،رشتے داروں اور دوستوں میں وہ کردار نظر نہیں آتا جن سے وہ اپنی خیالات شیئر کر سکیں۔ اِس کی اک وجہ تو ٹیکنالوجی کی وہ سہولتیں ہیں۔ جس نے انسان کی سوشل لائف کو بگاڑ دیا ہے۔ ٹی وی ، موبائل ، انٹرنیٹ کا یہ دورانسان کو اپنوں سے کتنا دور کئے ہوئے ہیں اس بات کا احساس اُسے تب ہوگا۔ جب اک دن کے لئے اُس سے یہ سہولتیں اچانک واپس لے لی جائیں۔
بدھ، 27 جنوری، 2010
SMSOye
شور کا ایک اور قول ہے۔
نئے راہوں پہ چلو، اپنے لئے نئے رستے ڈھونڈنے کی جستجو رکہو، اِس سے تمہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
چند دن پہلے فیس بک پر اک سائٹ کے بارے میں پتا چلا۔ اس سائٹ میں رجسٹر ممبر اپنے پسندیدہ ایس ایم ایس بھیج سکتے ہیں۔ رجسٹریشن کا طریقہ بھی بہت سیدھا ہے۔ اپنے پیغام بھیجنے کے لئے اپنے کمپیوٹر کے علاوہ موبائل فون کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ ہر ایس ایم ایس پر آپ کو پانچ پوائنٹ ملتے ہیں۔ اور اک دن میں زیادہ سے زیادہ بیس ایس ایم ایس کرنے کی اجازت ہے۔ موبائل فون سے ایس ایم ایس کرنے کے لئے
@CategoryName <space> Your message 03123696969
یا
@CategoryID <space> Your message 03123696969
یہ طریقہ کچھ ابتداء میں شور کے سمجھ میں نہیں آیا۔ تین چار دفعہ ریجکٹ بھی ہوئے۔ لیکن شور نے ہار نہیں مانا۔ آخر کار وہ کامیاب ہوگیا۔ اُس نے @ لے بعد لکھا "اردو پوئٹری" اور اسپیس دے کر بھیج دیا۔ اوپر والے موبائل نمبر پر، کچھ دیر کے بعد رپلائی ہوا "کہ آپ کو میسج کامیابی سے ایڈ ہوگیا ہے۔آپ کو پانچ پوائنٹ ملتے ہیں۔ اور آپ کا رینک ہے عام لڑکا"۔
شور ابھی تک 40 پوائنٹ کما چکا ہے اُس رینک ابھی تک "عام لڑکا" ہے۔
اُس سائٹ کا نام یہ ہے۔
بدھ، 20 جنوری، 2010
Ghulami
موجودہ معاشرے میں دو طرح کے غلام ہوتے ہیں۔ کچھ جسمانی طور پر اور کچھ ذہنی طور پر۔ جسمانی طور پر جو لوگ غلام ہوتے ہیں۔ وہ تو مجبور ہوتے ہیں۔ لیکن مجبور ہوتے ہوئے وہ باشعور بھی ہوتے ہیں۔ کیونکہ انھیں یہ شعور ہوتا ہے۔ کہ وہ غلام ہیں۔ اِس لئے وہ اپنے آپ کو غلامی سے نجات دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اکثر اوقات وہ غلامی سے خود کو آزاد بھی کرتے ہیں۔
لیکن وہ لوگ جو ذہینی طور پر غلام ہیں۔ اُن کی حالت قابلِ رحم ہے۔ قابل ِرحم اِس لئے کیونکہ وہ خود کو غلام نہیں سمجھتے ۔ جب کہ وہ خود کو غلام ہی نہیں سمجھتے اِس لئے اُن کے دماغ میں کبھی بھی آزاد ہونے کا خیال ہی نہیں آتا۔ کبھی کبھار تو وہ لوگ اپنی غلامی پر فکر بھی کرتے ہیں۔ اِسے لوگ ہر معاشرے میں موجود ہیں۔ ہاں اُن غلامی کی کیٹیگری میں فرق ضرور ہوتا ہے۔ لیکن وہ غلام ہوتے ہیں۔
adami ki qismain
(مامون الرشید)
اتوار، 17 جنوری، 2010
Ahmed Faraz ki Ek Ghazal
آج شور اپنے کمپیوٹر میں محفوظ شاعری پڑھنے کے موڈ میں تھا۔ اُسے احمد فراز کی ایک خوبصورت غزل نظر آیا ہے۔ ویسے بھی موبائل والوں اور خاص طور پر ایس ایم ایس کرنے والوں نے فراز کے نام کو اتنا بدنام کردیا ہے۔ کہ لوگ بھول گئے ہیں فراز کی اصل شاعری کا کیا رنگ ہے۔ اور کس مزاج کا فراز شاعر ہے۔ شور کو بہت دکھ ہوتا ہے۔ جب وہ کوئی بکواس ایس ایم ایس پہ فراز کا نام آتا ہے۔
پتا نہیں کس چیز کا بدلا یہ لوگ فراز کے ساتھ لے رہے ہیں۔ اچھا تو وہ غزل پڑھئے جو آج پورا دن شور کے دماغ میں گردش کرتا رہا۔
غزل
ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو
کہاں گیا ہے مرے شہر کا مسافر تو
مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوں
ترا خیال کہ شاخ چمن کا طائر تو
میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی
میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تو
ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے
یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو
فضا اداس ہے، رت مضمحل ہے میں چپ ہوں
جو ہوسکے تو چلا آ کسی کی خاطر تو
فراز تو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیا
زمانہ صاحب زَر اور صرف شاعر تو
جمعرات، 14 جنوری، 2010
Internet Explorer Them,
بدھ، 13 جنوری، 2010
shor in facebook
شور کا قول ہے۔
جو پروگرام سمجھ میں نہ آئے۔ اُس کو دل لگا کر سمجھنے کی کوشش کرو۔
شور اپنے قول کا پابند ہے۔ اِسی لئے وہ آج کل فیس بک کے پیچھے ہاتھ دو کر پڑا ہوا ہے ۔ اگر موسم سرد نہ ہوتا تو وہ نہا دھو کر فیس بک کے پیچھے لگ جاتا۔ مگر کیا کیا جائے کہ سخت سردی ہے اسی لئے صرف ہاتھ دھوکر فیس بک کے پیچھے پڑ گیا۔شور کو فیس بک کے بارے میں سنا تو تھا کچھ دوستوں نے اِس کی بڑی تعریف بھی کی تھی۔ مگر شور نے فیس بک کے ساتھ زیادہ چیڑخانی نہیں کی تھی۔ ویسے اگر شور یہ اعتراف کرلے کے اُسے فیس بک کا زیادہ سمجھ میں نہیں آیا تو زیادہ بہتر ہے۔ فیس بک کا اک اکاؤنٹ بھی بنا چکا تھا۔ لیکن کبھی استعمال کرنے کا نہیں سوچا۔ پھر اک دن یونہی خیال آیا کہ چلو دیکھ لیتے کیا چیز ہے۔ فیس بک آخر اس میں کیا بات ہے۔ جو لوگ اِس کے دیوانے ہیں۔ فیس بک میں ایسا کیا ہے۔ جیسے شور سمجھنے میں قاصر ہے۔ پھر شور کو اپنا وہ مشہور قول یاد آیا جو پوسٹ کے شروع میں درج ہے۔ چند دنوں سے شور کا فیس بک میں ہاتھ پاؤں مارہا ہے۔ اِس سے شور کے ہاتھ میں کبھی کچھ آجاتا ہے۔ تو کبھی کچھ۔ آج شور کے ہاتھ میں اک خوبصورت قطعہ لگا۔ وہی قطعہ میں آپ لوگوں کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔
یہ خوبصورت آئٹم اس لنک سے لیا ہے۔
بدھ، 6 جنوری، 2010
shor is happy
مسکرا رہا ہے۔ مجھے بھی کچھ نہیں بتا رہا ہے۔ ویسے مجھے نہیں لگتا کہ آج وہ کسی کو کچھ بتا نے کے موڈ میں نہیں ہے۔ انتظار کیجئیے وہ چند دن بعد خود ہی مجھے بتا دے گا۔ اور میں آپ لوگوں کو بتا دونگاں۔ فلحال ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شور بہت خوش ہے۔ اُسے خوش ہونے دیتے ہیں۔ اور ہم انتظار کرتے ہیں۔
shoes
منگل، 5 جنوری، 2010
mobi2weet
موبی 2 ویٹ کے بارے میں شور کو ڈان نیوز سے پتا چلا۔ رجسٹر ہونے کے ٹوئیٹر یا فیس بک کا اکاؤنٹ ہونا ضروری تھا۔ شور کے پاس دنوں اکاؤنٹ تھے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دنوں جگہ رجسٹر ہونے کے بعد شور نے اُنھیں اب تک استمعال نہیں کیا تھا۔ شور کا ویسے بھی زیادہ وقت بلاگ یا چیٹ روم میں گزرتا ہے۔ اِس لئے اُس کے پاس وقت ہی نہیں تھا۔ کہ اِن دونوں پر بھی ایک نظر ڈالے۔ شور دنوں کے پاسورڈ بھی بھول چکا تھا۔ چند دن پہلے اُسے اپنے فیس بک کا پاس ورڈ مل گیا۔ فیس بک میں اپلیکیشن میں موبی 2ویٹ والے اپلیکیشن کو رن کیا۔ وہاں اپنا فون نمبر دیا۔ اُس نے پن نمبر مانگا۔ شور نے اپنی جیبیں ٹٹولیں۔ فون کوجھنجوڑا۔ ای میل کو نھچوڑا۔ لیکن پن نمبر نہ ملا۔ اگلے دن شام کو موبائل فون پر ایک نئے نمبر سے ایک ایس ایم ایس مل گیا۔ یہ لیجئیے جناب پن نمبر۔ رات کو نیٹ آن کر کے پن نمبر انٹر کیا ۔ تو رجسٹریشن کی مبارک باد موصول ہوا۔ اب موبی 2 ویٹ پر لاگ اِن ہونے کے لئے شور کا موبائل نمبر اور وہی پن کوڈ انٹر کرنا ہے۔ بہت مشکل سے اور خدا خدا کر کے شور نے آخر کار موبی2ویٹ پر اپنے آپ کو رجسٹر کر لیا۔ ویسے ایک بات کہوں شور کے سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا ہے۔ کہ اَس کو کس طرح استعمال کرے۔ خیر اندھے کی لاٹھی آخر کب کام آئے گا۔ کہیں نہ کہیں تو لگ ہی جائے گا۔
جمعہ، 1 جنوری، 2010
new-year-night
ایسے تمام لوگوں کے لئے شور کی طرف سے نیا سال مبارک ہو۔
آج نیو ائیر نائٹ ہے۔
اور آج رات چاند گرہن بھی ہے۔
ایک خاصیت بھی ہے ۔ کہ آج رات چاند کی چودھویں بھی ہے۔ واہ۔ لگتا ہے اِس سال قدرت کے نعمتیں خوب برسے گی۔