صفحات

منگل، 23 فروری، 2010

Aman ki Asha

پاکستان اور بھارت کے دو بڑے میڈیا گروپ نے اس سال "امن کی آشا" کے نام سے اک مہم شروع کیا ہے۔ جنگ نیوز کے بلاگ پر اِس بارے میں یہ پوسٹ موجود ہے۔
امن کی آشا
"امن کی آشا" مہم کے سلسلے میں اک خوبصورت گیت بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جس کو بھارت کے مشہور سنگر شنکر مادیون اور پاکستان سے راحت فتح علی خان نے اپنی آواز دی ہے۔ اِس خوبصورت گیت کے شاعر کون ہیں یہ تو شور کو پتا نہیں۔ جیوٹی وی پر یہ گیت کہیں بار پلے ہوچکا ہے۔ لیکن شور اِس گیت کو اپنے کمپیوٹر پر بھی سننا چاہتا تھا۔ چند سائٹ چیک کرنے کے بعد یہ گیت مل گیا۔ اب اِس گیت کے لیرکس حاضر ہیں۔

دیکھائی دیتے ہیں دورتک اب بھی سایے کوئی
مگر بلانے سے وقت لوٹے نہ آئے کوئی
چلو نا پھر سے بچائیں دریّاں بجائیں ڈھولک
لگا کہ مہندی سریلی ٹپے سنائے کوئی
پتنگ اُڑائے چھتوں پہ چڑھ کے محلے والے
فلک تو سانجا ہے اُس میں پیچیں لگائے کوئی
اٹھو کبڈی کبڈی کھیلیں گے سرحدوں پر
جو آئے اب کہ تو لوٹ کر پھر نہ جائے کوئی

نظر میں رہتے ہو جب تم نظر نہیں آتے
یہ سُر بلاتے ہیں جب تم ادھر نہیں آتے
نظر میں رہتے ہو جب تم نظر نہیں آتے
یہ سُر بلاتے ہیں جب تم ادھر نہیں آتے



اور اس گیت کو یہاں سے ڈائون لوڈ کریں
امن کی آشا

جمعرات، 18 فروری، 2010

kiya kaha

ایک مشہور قول ہے۔
"کس نے کہا ہے یہ مت دیکھو، بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہا ہے۔"
لیکن اِس قول پر شاید ہی کبھی کسی نے عمل کیا ہو۔ لوگ اکثر یہ دیکھتے ہیں کہ" کس نے کہا ہے۔"اگر کہنے والا کوئی بڑا نام ہے تو ضرور صحیح کہہ رہا ہے۔ لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ ہر بڑا اور مشہور نام صحیح کہے۔ اور ہر غیر معروف شخص جھوٹا ہو۔ ہوسکتا ہے بڑے نام والے نے اب اچھا کہنا چھوڑ دیا ہے۔ اب وہ اپنے کہے پر زیادہ دھیان نہیں دیتا۔ بس جو منہ میں آتا ہے کہہ دیتا ہے۔ ہوسکتا ہے اُس مشہور شخصیت نے اب زیادہ غور فکر کرنا چھوڑ دیا ہو۔ وہ صرف سطحی باتیں کرنے لگا ہو۔ اور کوئی اُس کی شہرت اور بڑے نام کی وجہ سے اُسے کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اگر کسی کم تجربے کار شخص اُس کی غلطیوں کی نشاندہی کرے تو سارے لوگ اُس بدنصیب کو تب تک ہدفِ تنقید بناتے رہیں گے۔ جب تک کہ وہ اپنی غلطی مان نہ لے۔ شاید ہی کوئی یہ دیکھنا گوارا کرے گا۔ کہ اُس بے چارے نے جن جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ وہ صحیح بھی ہیں یا نہیں۔
دوسروں کی بات کو چھوڑئیے سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھئیے ۔ آپ نے اپنی زندگی میں جتنے بھی تحریریں، تقریریں پڑھی یا سنی ہیں اُن میں زیادہ تر کے نام سے آپ پہلے واقف تھے یا ہیں۔ کیونکہ آپ کے نزدیک یہ زیادہ اہم ہے۔ کہ "کس نے لکھا ہے"۔ پھر اُس "کس" کے نام کو آپ تولے گے۔ جو جتنا مشہور ہوگا آپ اُتنے شوق سے اُس کی تحریر یا تقریر کو پڑھے گیں۔

منگل، 16 فروری، 2010

SMS

موبائل فون ہے تو ایس ایم ایس کا ملنا لازمی ہے۔ چاہے آپ خود کسی کو ایس ایم ایس کریں۔ یا نا کریں۔ شور کو بھی چند دن پہلے ایک ایس ایم ایس ملا ۔ شور اِسے آپ کے ساتھ شیئر کررہا ہے۔
Naqqalon se Hoshyar
Asli SMS
ki Pehchan

Humara
har
SMS
Unnokha
Naya
Or
Ap k Meyar k
Mutabiq
hota hai

Puranay
Ghisay
Pitay
Or
Bazari
SMS Se
Parhaiz kijiye
Gum
Salgira
Bewafai
Funny
Hr veriety k liye Booking
ki jati hai
Neeeeeez....
Shadi Biya k liye
SMS order py tyar kiye jatey hain

اتوار، 14 فروری، 2010

Happy Valentines Day

موبائل کمپنی والے بار بار یہ بتا رہے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے آرہا ہے۔ اپنے پیارے کو کوئی پیار بھرا پیغام بھیج دئیے ۔ شور یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ یہ ویلنٹائن ڈے کیا بلا ہے۔ ایک پادری ویلنٹائن کی یاد میں سارے دنیا کے لوگ اِس دن کو مناتے ہیں۔ اُور اِس کے قصے میں کتنی حقیقت ہے۔ جھوٹ کتنا ہے۔ کیا دنیا میں یہی پہلا شخص تھا جس نے محبت کے لئے جان دے دی۔ شاید نہیں۔ لیکن کیونکہ مغرب کے لوگ 14 فروری کو محبت کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ اور ہم ٹھرے مغرب کے پیروکار بناء کچھ سوچے سمجھے بڑے جوش اور جذبے سے اِس محبت کے دن کو مناتے ہیں تو کیا غلط کرتے ہیں۔ موبائل فون کمپنی والوں کو لوگوں کی بیلنس پہ ہاتھ صاف کرنا ہے۔ ٹی وی چینل والوں کو اپنے ناظرین کو بے وقوف بنانے کا اک اور موقع مل رہا ہے۔ اور شور کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے بلاگ کے لئے ایک اور پوسٹ ۔
تو ہیپی ویلنٹائن ڈے

جمعہ، 12 فروری، 2010

Blog Anniversary

شور کا بلاگ اب ایک سال کا ہوگیا ہے۔ اور پتا ہی نہیں چلا۔ اس میں شور کی کیا غلطی ہے۔ آج کل وقت ہی اتنا تیزی سے جارہا ہے۔ کہ کچھ پتا نہیں چلتا کہ کب مہینہ گزر گیا کب سال ہوگیا۔ 3 فروری کو بلاگ کا سالگرہ تھا جو شور بھول گیا۔ آج منا رہا ہے۔ اس خوبصورت کارڈ کے ساتھ جو گوگل پہ ڈھونڈا ہے۔

شور کی طرف سے شور کے بلاگ کو اپنا پہلا سالگرہ مبارک ہو۔

بدھ، 10 فروری، 2010

kis liye likhon

شور جب بھی کسی سے کہتا ہے کہ وہ نیٹ پر بلاگ لکھتا ہے تو وہ شخص شور پر ہستا ہے ۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ انٹر نیٹ‌ پر لکھنا وقت کا برباد کرنا ہے۔ نیٹ پر صرف لڑکیاں سے گپیں لگا نا ہی بہترین ہے۔ روز چیٹ روم میں‌ نئے دوست بنائو ۔ فیس بک میں باتیں کرو۔ اس کے علاوہ یو ٹوب پر ویڈیو دیکھو۔ اپنے دوستوں کی باتوں کو سن کر شور کچھ دن کے لئے یہی کام کرنے لگتا ہے۔ اُس کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔ او وہ بلاگ سے دور ہوجا تا ہے۔ لیکن پھر وہ بور ہو کر واپس بلاگ لکھنے بیٹھ جاتا ہے۔ کیونکہ شور یہی سوچتا ہے۔ چیٹ روم میں وقت برباد کرنے سے بہتر نہیں کہ وہ کچھ سوچے اپنے خیالات کو یک جاہ کرے ۔ اُنھیں سمیٹے ۔ شور کے نزدیک یہ غلط بھی نہیں ہے ۔ اَس سے کسی انسان کو یہ بھی پتا لگ جاتا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔

جمعرات، 4 فروری، 2010

FireFox's-Add-ons for Rapidshare

انٹرنیٹ پہ ڈاؤن لوڈنگ کرنے والوں کے لئے ریپڑ شیئر کا نام نیا نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگ اِس کا استعمال کرچکے ہیں۔ ریپڑ شیئر پہ اگر آپ فری اکاؤنٹ کا استعمال کیا ہے۔ تو آپ کو یہ ضرور پتا ہوگا۔ کہ فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد دوسرا فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے بہت انتظار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر آپ فائر فوکس براؤزر استعمال کررہے ہیں۔ تو فائر فوکس میں اک بہت اچھا ایڈان ہے۔ جیسے استعمال کرکے آپ ریپڑ شیئر پہ اک فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد دوسرے فائل کچھ سیکنڈ کے بعد ڈاؤن لوڈ کر پائیں گے۔ یہ ایڈ آن کو حاصل کرنے کے لئے فائر فوکس کے ٹول مینو میں جاکر ایڈ ان پر کلک کریں۔
پھر گیٹ ایڈ ان کے ٹیب پر کلک کریں۔
سرچ بکس میں سکریپ اسکرین لکھ کر انٹر کریں۔
اسکریپ اسکرین کا انسٹال کریں۔
براؤزر کو ری اسٹارٹ کریں۔ پھر ریپڑ شیئر پر رکھے کسی فائل کا لنک اوپن کریں۔ لنک کے نیچے لیف سائیڈ پر اک بار نظر آئے گا۔ کچھ دیر کے بعد آپ سے ڈاؤن لوڈ ہونے والے فائل کو محفوظ کرنے کو کہا جائے گا۔ اپنی پسندیدہ لوکیشن پر فائل کیجئیے۔
اور شکریہ ادا کیجئیے ۔ شور کا نہیں بلکہ اِس سائٹ کا جس نے یہ خوبصورت ٹپس دیا تھا۔

http://blog.brothersoft.com/2010/01/26/download-from-rapidshare/

سوموار، 1 فروری، 2010

Shor tu pagal hai

چند دنوں سے شور یہ سن رہا ہے۔ کہ ہم دنیا میں دوسرے لوگوں کی مدت کرنے کے لئے آئے ہیں۔ شور نے اپنے اُس مہربان سے پوچھا کہ دوسرے کس لئے آئے ہیں۔ جواب ملا۔ ہر اک دوسرے کے کام کرنے کو آیا ہے۔ اور دوسرے ، تیسرے کا، تیسرا چوتھے کا، یہی دوسرا تیسرا چوتھا کرتے ہوئے گنتی بہت دور تک جائے گا۔ لیکن شور نے اک بے وقوفانہ سوال کیا۔ اِس گنتی میں اُس پہلے کا نمبر کب آئے گا۔ یا پہلا، نیکی کرکے بھول جائے۔ یا انتظار میں بیٹھ جائے کہ کب کوئی آئے اور اُس بے چارے پہلے کے ساتھ کچھ اچھا کرے۔ اور اگر اُس پہلے کا نمبر آتے آتے اتنی دیر ہوجائے جب وہ پہلا صرف اک نمبر رہ جائے۔ تو جانتے ہو جواب کیا ملا۔ شور تیرا تو دماغ خراب ہے۔