صفحات

جمعہ، 31 دسمبر، 2010

Sal ka AaKhari din

غالب نے کہا تھا"فکر دنیا میں سر کپاتا ہوں" ۔ لیکن یہاں تو سر کپانے کی بھی فرصت نہیں ہے۔ موبائل فون سے معلوم ہوا کہ آج دسمبر کی 31 تاریخ ہے۔ اور سال 2010کا آخری دن ہے۔ ۔ ۔ ۔ سال کا آخری دن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کیا فرق پڑتا ہے۔ "زیرہ کی جگہ ایک" آجا ئے گا۔ وہی شب و روز ، وہی صبح سے شام تک بوجھ ڈھوتا ہوا آدمی۔ ۔ ۔ہاں ۔ ۔مہینے کا آخری دن ہے تو کچھ اہمیت ہے۔ کچھ اُمید ہے۔ کہ پہلی تاریخ آنے والی ہے۔ جیب کی حالت میں کچھ بہتری آئے گی۔ کچھ خریدتے ہوئے دماغ حساب کتاب میں جمع(+)،نفی(-)اور بقایا کا کچھ کم سوچے گا۔
یہ نئے سال کا جشن منانے کا حق صرف بھرے پیٹ اور کھلے دل و دماغ والوں کو ہے۔ اور ہم لوگ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اتوار، 26 دسمبر، 2010

Noon Meem Rashid ki Nazam

پہلے فلمی گیتوں میں موسیقی کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی دھیان دیا جاتا تھا۔ لیکن آجکل کے فلمی شاعری میں ایسے عام اور بازاری لفظ استعمال ہوتے ہیں۔ جنھیں سن کر اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والا کوئی بھی عام سا سامعی اپنا سر پکڑ کر رہے جاتا ہے۔ لیکن اس دور میں اگر کسی فلم میں اچھے شاعر کا کلام لیا جاتا ہے۔ تو شور بطورِ خاص اُس گیت کو سنتا ہے۔
ڈان نیوز میں ایک فلم پیپلی لائیو کے بارے میں یہ لکھا ہوا تھا کہ اِس میں ن۔ م ۔ راشد صاحب کا ایک نظم لیا گیا ہے۔شور نے فوراً پیپلی لائیو کے گانے چیک کئے ۔ لیکن ایک گڑبڑ یہ ہوئی کہ نظم کے بول شور کے دماغ سے نکل گئے تھے۔ شور کو صرف یہ یاد رہا کہ اِس نظم کو انڈین اوکشن نے گایا ہے۔ پورا البم سننے کے بعد شور کو یہ نظم( زندگی سے ڈرتے ہو۔) ن۔ م۔ راشد صاحب کا لگ رہا ہے۔ اگر شور غلط ہے تو بخش دیجیئے گا۔

اتوار، 19 دسمبر، 2010

FastestFox

بڑے بُزرگ کہتے ہیں کہ سنی سنائی باتوں پر زیادہ یقین مت کرو۔ اور شور کہتا ہے کہ لکھے ہوئے باتوں پر تجربہ کرنے کے بعد ہی یقین کرو اور وہ بات اگر کمپیوٹر کے متعلق ہو تو بغیر تجربے کے ہرگز یقین نہ کرو۔
شور نے کہیں لوگوں سے سن رکھا تھا کہ موزیلا کا فائر فوکس استعمال کرو یہ باقی براوزر سے زیادہ تیز ہے۔ شور نے ڈاؤن لوڈ کرکے استعمال کیا۔ واقع رفتار میں کچھ تیز تھا۔ پھر اِس سائٹ سے یہ پتا چلا کہ فائر فوکس کو اور تیز کرنے کے لئے یہ ایڈ اُن استعمال کرو۔ایڈ اُن انسٹال کر کے چیک کیا تو زیادہ تیز دیکھنے میں نہیں  آئی۔ پھر شور نے ایک اور ایڈ اُن ڈھونڈا اور انسٹال کرکے دیکھ لیا۔ اس ایڈ اُن نے فائر  فوکس کو سچی میں تیز کردیا۔ اِس ایڈ اُن کی وجہ شور اگلے صفحہ، اگلے صفحہ کی مصیبت سے بچ گیا ہے۔ کیسے خود ہی تجربہ کیجئیے۔

جمعہ، 17 دسمبر، 2010

sms fraud

Ap jo koi bhi ho plz mere is num 03427163501 pe 25rps send kr do main hospital main musibt man hum plz Allah'rasol k waste mera yakin kro bad mai wapis kr don gi

From:+923327362363
2010/12/17
09:23AM

یہ ایس ایم ایس پڑھ کر شور کو کچھ رحم آگیا۔25 روپے بھی کوئی رقم ہے۔ شور اُس نمبر والے یا والی کو رقم بھیجنے کے لئے تیار ہوگیا۔ لیکن ایک خیال نے شور کو روک دیا۔ جس موبائل فون سے یہ محترم یا محترمہ نے ایس ایم ایس کیا اگر وہ اپنا موبائل فون کو اپنے آس پاس کے کسی بندے کو خریدنے کی آفر کرے۔ تو شور کو یقین ہے کہ کم سے کم سو روپے تو مل ہی جائیں گے۔
شور نے اِس ایس ایم ایس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ کیا جواب دیتا۔ آپ ہوتے تو کیا جواب دیتے۔

بدھ، 15 دسمبر، 2010

Bbcurdu Mobile Bulletin

بی بی سی اردو سروس سے ایک خوش خبری ہر روز سنائی گئی۔ کہ آپ اب پاکستان میں موبائل فون سے کسی بھی وقت بی بی سی اردو سروس سے خبریں سن سکتے ہیں۔ آپ کا نیٹ ورک کوئی بھی بس اپنے موبائل فون سے ڈائل کریں 44 74 74 اور بی بی سی اردو سروس سے خبریں سن لیجئیے۔
یہ ہوا بی بی سی اردو سروس کی خوش خبری ۔ اب پڑھئیے شور کی داستان۔
ایک دن شور نے اپنے موبائل فون سے بی بی سی اردو سروس سننے کے لئے نمبر ڈائل کیا کمپیوٹر صاحبہ کہنے لگی کہ نمبر غلط ہے۔ تین چار دفعہ ڈائل کیا۔ پر کمپیوٹر صاحبہ نے ڈانٹ دیا کہ آپ نے جو نمبر ڈائل کیا ہے وہ صیحح نہیں ہے۔ شور سمجھا شاید نمبر کچھ اور ہے اور وہ غلط نمبر ڈائل کررہا ہے۔(نمبر سچی میں غلط تھا) شور نے ہمت کر کے وارد نیٹ ورک سروس کے ہلپ لائن سے رابطہ کیا۔ ہلپ لائن والے بندے نے کہا کہ ہمارے پاس اس طرح کی کوئی معلومات نہیں ۔ کہ بی بی سی اردو سروس والوں نے ایسا کوئی سروس شروع کی ہے۔ شور نے ہلپ لائن والوں کو معلومات فراہم کی جناب بی بی سی اردو والوں نے یہ سروس شروع کئے ہوئے دو تین مہینے ہو چکے ہیں۔ ہلپ لائن والے نہیں مانے۔ اور یہی فرمایا کہ شاید دوسرے نیٹ ورک میں یہ سہولت ہو لیکن وارد میں نہیں ہے۔
مجبوراً شور نے موبائل کو جیب میں رکھ کر صبر کرلیا۔
چند دن پہلے شور کو ایک شناسے نے معلومات دی کہ میں نے ٹائم پاس میں بی بی سی اردو سروس کی خبریں موبائل فون سے سنی۔ جس نے بیلنس کا صفایا کردیا۔ یار یہ بی بی سی سروس والے بھی نا ٹیلی فون نمبر بتاتے وقت یہ نہیں بتایا کہ خبریں سننے کے لئے چارجز کتنے لگیں گے۔ اگر پہلے پتا ہوتا بیلنس کا یہ حال ہوگا تو خبریں سننے کے بجائے پیکج کر کے کسی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سے بات کر لیتا ۔
آج بی بی سی اردو سروس کے ویب سائٹ میں شور کی نظر اُس نمبر پہ پڑی تو یہ سارا کچھ یاد جو اوپر بیان ہوا۔ شکر ہے اُس دن شور کا نمبر غلط تھا ورنہ آج شور بھی یہی رو رہا ہوتا کہ یہ بی بی سی اردو سروس والے بھی نا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوموار، 13 دسمبر، 2010

Complete Business Man

شور کے نزدیک ایک "مکمل بزنس مین" وہ ہے۔ جو اچھے دام ملنے پر اپنے آپ کو بھی بیچ دے۔

ہفتہ، 11 دسمبر، 2010

Naraz Savera Hai

ہر پوسٹ پر شور کچھ نہ کچھ لکھنا ضروری سمجھتا تھا اور سمجھتا ہے۔ لیکن آج کچھ بھی لکھنے کو دل نہیں چاہ رہا ہے۔ بس یہ گانا دیکھئیے۔ اور سوچئے کہ شور نے کیا سوچ کر یہ ویڈیو اپنے بلاگ پر رکھا ہے۔

جمعرات، 2 دسمبر، 2010

Follow Me, I Follow You

پچھلے دو تین دن سے شور فالو می,آئی فالو یو کا کھیل کھیل رہا ہے۔ ہوا یوں کہ شور نے اپنے بلاگ کو نیٹ ورکس پر رجسٹر کیا ہوا ہے۔ فیس بک پہ نیٹ ورکس کے ڈسکیشن والے صفحے پر فالو می, آئی فالو یو کے ٹاپکس پر چند لنک بنے ہوئے تھے۔ شور نے بنا کچھ سوچے سمجھے وہاں اپنے بلاگ کا ایڈریس دے دیا۔ شور کو ذرا بھی اُمید نہیں تھا کہ اُس کے بلاگ کو کوئی فالو کرے گا۔ لیکن چند منٹ کے بعد شور کے بلاگ میں کچھ نئے فالور نظر آئے۔ جواب میں شور نے بھی اُن بلاگروں کو فالو کیا۔ اُن کے شور بلاگ کو فالو کرنے سے شور کو کیا فائدہ ملے گا۔ یہ تو شور نہیں جانتا اور نا ہی شور کو پتا ہے کہ اُن کے بلاگ کو شور کے فالو کرنے سے کیا فائدہ ملے گا۔ اِن فالورز میں شاید ہی کوئی شور بلاگ کی زبان سمجھ سکتا ہے۔ کیونکہ وہ ٹھرے آقاؤں کے زبان یعنی انگریزی بولنے والے اور شور ٹھرا غلاموں کی زبان اردو بولنے والا۔ ایک پرانا محاورا ہے اگر غلط ہوا تو شور کو بخش دو۔ "یار من ترکی او من ترکی نمی دانم"
وہ اگر اردو نہیں جانتے تو ہم بھی انگریزی نہیں سمجھتے۔ لیکن پھر بھی فالو تو کر رہے ہیں ایک دوسرے کو ،یہی بہت ہے۔

اتوار، 28 نومبر، 2010

kerdar

اچھے آدمی کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے۔ کہ لاکھ کوشش کرے لیکن بُرا نہیں بن سکتا ۔اور بُرے آدمی کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ وہ کبھی بھی اچھا نہیں بن سکتا۔ اب قصور کس کا ہے۔ اُس عمل کا جو اچھا اور بُرا میں تقسیم ہے۔ یا اُس آدمی کا جس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے۔جو مجبور ہے اپنے اُس کردار کو نبھانے کے لیے جو اُسے دیا گیا ہے۔ فیصلہ کون کرے گا؟

جمعہ، 19 نومبر، 2010

Sahib-e-hasiyat

شور آپ کے چشمے کا نمبر بڑھ گیا ہے، کیا"
"نہیں کیا ہوا ہے؟"
"کل کے پوسٹ میں آپ نے تحریر کیا تھا کہ ٹمپلیٹ میں آر۔ آر۔ ایس فیڈ کی کمی ہے۔ لیکن اِس میں تو آر۔ آر۔ ایس فیڈ موجود ہے۔"
"اچھا، لگتا ہے آج کل میرا دھیان کچھ بٹا ہوا ہے "
"کیا پریشانی ہے۔"
"میں یہ سوچ سوچ کر کچھ پریشان ہوں کہ عید قربان جو مسلمانوں کے لئے ایک خوشی کا دن تھا۔ اب دکھاؤے کا دن بن گیا ہے۔ بڑے بڑے صاحب حیثیت لوگ اپنے پیسے کی طاقت کا بھرپور طریقے سے دکھاؤا کرتے ہیں۔ عید کے موقع پر صرف یہ سننے کو ملتا ہے کہ کس نے کتنے ہزار کتنے لاکھ روپے میں قربانی کا جانور خریدا ہے۔ کس نے کتنے جانور قربان کئے۔ اپنے سب سے پیاری چیز کو اللہ تعالٰی کی راہ میں قربان کرنے کا جو واقع عید الضٰی کی وجہ بنا تھا اب وہ شاید ختم ہوتا جارہا ہے۔ دلوں کا حال تو اللہ پاک بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اب عید قربان میں صرف یہ دکھائی دیتا ہے کہ کوئی کتنا صاحبِ حیثیت ہے۔"

بدھ، 17 نومبر، 2010

Eid ul Azha

آج عید ہے۔ شور نے چند دن پہلے اپنے بلاگر والے بلاگ کو ایک نیا لبادہ پہنایا۔ یہ بلاگ کے لئے شور کی طرف سے عید کا جوڑا ہے۔ اس ٹمپلیٹ کے ساتھ شور نےاپنی سہولت کے لئےکچھ چیھڑ کانی کی ہے۔ اِس ٹمپلیٹ میں سب سے اچھا انٹر نیٹ ایکسپلورر 6 میں ٹھیک ٹھاک دیکھائی دینا ہے۔ اِس میں بس آر۔ آر۔ ایس۔ فیڈ کی کمی ہے۔ شور اِس ٹمپلیٹ میں آر۔ آر۔ ایس۔ فیڈ شامل کرنے کا سوچ رہا ہے۔ کامیاب ہوا تو ٹھیک یہی کچھ عرصے تک بلاگ پر رہے گا۔ نہیں۔ تو ٹمپلیٹ کی کمی نہیں دوست ایک ڈھونڈ ہزار مل جائیں گے۔
آپ سب کو عید کی ڈھیر ساری خوشیاں مبارک ہو۔

سوموار، 15 نومبر، 2010

kam

اے زندگی! یہ کام فقط کام کب تلک
اتنا تو وقت دے کہ اُسے یاد کرسکوں

آجکل شور کی ذہنی کیفیت کا اظہار اس شعر سے بہتر نہیں ہوسکتا ۔

سوموار، 8 نومبر، 2010

Nayab Shaye

ایمانداری کے متعلق شور سوچتا ہےکہ یہ ایک نایاب شئے ہے۔ جو آجکل دستیاب نہیں۔ اور بہت ہی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ مگر اِس نایاب شئے کی مارکیٹ ویلیو زیرو ہے۔

سوموار، 1 نومبر، 2010

Aas pass hai Khuda

انڈین میوزک اور فلم انڈسٹری میں پچھلے چند سالوں سے راحت فتح علی خان ایک لازمی حصہ بن گئے ہیں تقریباً ہر دوسرے تیسرے بڑی فلم میں راحت فتح علی خان کا کوئی نہ کوئی گیت شامل ہوتا ہے۔اور وہ گیت ریکارڈ ہوتے ہی کامیابی کا سر ٹیفیکٹ حاصل کرلیتا ہے۔ اس میں کمال صرف اور صرف راحت فتح علی خان کی اُس متاثر کن آواز کا ہے۔ جیسے جب بھی سنو دل کو ایک سکون ملتا ہے۔ شور کے نزدیک راحت فتح علی خان کی آواز کسی بھی انڈین فلم ایکٹر پر سوٹ نہیں کرتا لیکن پھر بھی اُس کے گائیے ہوئے گیت کامیاب ہیں۔ شور کو یہی لگتا ہے کہ ٹی وی پر راحت فتح علی خان کا جب بھی کوئی گیت آتا ہے۔ تو لوگ اسکرین پہ نظر آنے والوں کو بھول کر صرف راحت فتح علی خان کی آواز کو سننے لگتے ہیں۔ دوسروں کے بارے میں اگر شور کی رائے غلط ہو تو کوئی بات نہیں لیکن شور کا اپنا یہی حال ہے۔
چلو راحت فتح علی خان کا ایک اور گیت سنتے ہیں جو نئی فلم "انجانا انجانی" سے ہے۔
فلم:۔ انجانا انجانی
میوزک:۔ ویشال شیھکر
بول:۔ ویشال
اس خوبصورت گانے کو اِس لنک سے ڈاؤن لوڈ کریں۔
آس پاس ہے خدا

اتوار، 31 اکتوبر، 2010

Shor's Brithday

کمزور، لاغر جسم، دبلا پتلا پھونک مارو تو اُڑ جائے گا۔ بکھرے بال، آنکھوں پہ نظر کا چشمے کے ساتھ ساتھ بے چینی، ہلکی مونچھیں ، ناک پہ غصہ، اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ کا ظہور بہت کم ہی نظر آتا ہے۔ آپ سوچ رہے ہیں میں آج کس شخصیت کا خاکہ پیش کرنا چاہ رہا ہوں۔ وہی جو آج ایک سال اور بوڑھا ہوگیا۔ جس کی زندگی کا ایک اور سال گھٹ گیا۔ چلو اتنے تلخ باتوں کا آئینہ دکھانے کے بعد شور کو مبارک باد دیتے ہیں۔ کیونکہ آج اُس کا سالگرہ ہے۔ بلاگ پر شور اپنا سالگرہ دوسری دفعہ منا رہا ہے۔ لیکن حقیقت میں شور آج کتنے سال کا ہوگیا ہے۔ پتا نہیں یار۔ ۔ لیکن جس طرح کی باتیں وہ کرتا ہے۔ اِس سے اُس کی عمر اندازاً 100 کے آس پاس ہونا چاہیئے۔

جمعہ، 29 اکتوبر، 2010

Subeh ka Bhola

اگر صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو اُسے بھولا نہیں غائب دماغ کہتے ہیں کیونکہ اُس بے چارے کو گھر کا راستہ یاد نہیں رہا ہوگا۔ اور وہ سارا دن اِدھر اُدھر بھٹکتے بھٹکتے اچانک اپنے گھر کے سامنے رک گیا ہوگا۔ اُس وقت شام ہوچکی تھی۔ اِس میں اُس کا کیا قصور ۔ ۔ ۔ ۔
آپ سوچ رہے ہیں کہیں دن غائب ہونے کے بعد شور یہ محاورہ کی ٹانگ کیوں تھوڑ رہا ہے۔ بات دراصل یہ ہے۔ کہ شور نے اپنے اور بلاگ کے درمیاں ایک رابطہ پل بنایا تھا۔ جو سیلاب سے تو بچ گیا مگر کچھ مہربان لوگوں کی وجہ سے وہ بہہ گیا۔ اُس پل کے تعمیر ہوتے ہوتے اتنے دن بیت گئے اور شور آج حاضر ہوا ہے۔ ویسے بھی ہر بھولے بھٹکے روح کی طرح شور کی دوڑ بھی بلاگ تک ہے۔ اس سے آگے شور کو رستہ ہی نہیں معلوم تو جائے گا کیسے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جمعرات، 19 اگست، 2010

Maay Baap

ہم پہ یقین کرو مائی باپ! ہم چور نہیں ہیں، ہم نے کسی کے ساتھ فراڈ نہیں کیا، مائی باپ! یہ سب دشمنوں کی سازش ہے۔ وہ ہم سے جلتے ہیں۔ ہم پہ رحم کرو مائی باپ!، ہم بہت اچھے اور شریف لوگ ہیں۔ ہم سے پہلے جو تھے وہ ضرور چور و چکے ہونگے ۔ لیکن ہم ایسے نہیں ہیں۔ ہم نے سارے گناہوں سے پچھلے ہفتے ہی توبہ کرلیا ہے۔ ۔ ۔ کیا۔ ۔ ۔نہیں مائی باپ پچھلی بار ہم نے جو توبہ کیا تھا وہ دل سے نہیں کیا تھا۔ لیکن اب کے بار ہم پورے دل و ایمان سے توبہ کرتے ہیں۔ ہماری شکلیں دیکھئیے اِن میں آپ کو مظلومیت نظر نہیں آئے گی۔ یہ سب اِن لوگوں کی وجہ سے ، جو دائیں بیٹھے ہیں۔ اِن لوگوں نے دس سال تک ہمیں بند کیا تھا۔ ماہی باپ! ہم پہ رحم کرو ہمیں کچھ دے دو ہماری حالت بہت خراب ہے۔ ہم آپ کے پائی پائی کا حساب دینگے۔ صرف پائی تک کا حساب اِس لئے کے ہمیں اِس سے آگے تک کی گنتی نہیں آتی ۔ جعلی ڈگری سے ہم صرف الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔ کوئی ریاضی دان نہیں بن سکتے۔ ویسے بھی مائی باپ! ڈگری ڈگری ہوتا ہے چاہیے اصلی ہو یا جعلی کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن ہمیں فرق پڑے گا اگر آپ کچھ عنایت کردیں۔ ماہی باپ! شاید آپ کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہم کیا کہہ رہیے ہیں۔ پر ہم بھی کیا کریں ہمیں آپ کی زبان نہیں آتی ۔ چلو چھوڑو جو کچھ لکھا ہے۔ وہ آپ کی زبان میں بدلنے کے لئے کسی پڑھے لکھے نوکر کو پکڑتے ہیں۔ پڑھے لکھے نوکر صیحح کہا میں نے جناب جو پڑھتا ہے وہ نوکر بن جاتا ہے۔ جو نہیں پڑھتا وہ اُس نوکر کا مالک بن جاتا ہے۔ اچھا مائی باپ! ہمارے بارے میں ضرور سوچیں۔ ورنہ ہمیں اپنے پیسے خرچ کرنے کے بارے میں لوگوں سے سننا پڑے گا۔

بدھ، 18 اگست، 2010

Ramadan-al-Mubarak

رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہوچکا ہے۔ اور شور بھی سر پہ ٹوپی ڈالے مسجد میں نظر آرہا ہے۔ شور نے جب سے ہوش سمبھالا ہے۔ تب سے اُس نے تمام روزے رکھے ہیں۔ سوائے کچھ روزوں کے جو بیماری کی وجہ سے چھوٹ گئے ۔ ویسے بھی شور کے فیملی میں روزہ خوری کا لفظ ابھی تک نہیں آیا ہے۔ شور کے فیملی ممبران تو باقی مہینوں میں بھی نماز کے پابند ہے۔ اوراس معاملے میں شورہی سب سے زیادہ سست ہیں۔ لیکن رمضان کا مہینہ آتے ہی شور بھی اپنی سستی کو ایک سائیڈ پہ رکھ کر نماز پڑھنے کے ساتھ ساتھ قرآن پاک کی تلاوت بھی کرنے لگ جاتا ہے۔ آج کے لئے بس اتنا ہی پھر ملیں گے ۔ انشاء اللہ

بدھ، 4 اگست، 2010

kiya tum bhi

شور کے چھوٹے بھائی کا موبائل پر 24 گھنٹے ایس ایم ایس کی گھنٹی بجتی رہتی ہے۔ اور شور کو یہ گھنٹی بلکل پسند نہیں ۔ شور کا موبائل شور کی طرح اک دم خاموش ہے۔ عموماً کمپنی کی طرف سے بھیجے گئے پیغامات ہی موبائل کی خاموشی کو توڑتے ہیں۔ شور کو اِس بات کا نہ تو دکھ ہے نہ خوشی ہے۔ اور وہ اِس بات کی حقیقت سے بھی واقف ہے۔ دوستوں کی طرف سے بھیجے گئے یہ پیغامات میں زیادہ تر تو فضول سے لطیفے یا گھٹیا اشعار ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ پیغامات واقعی ہی لاجواب ہوتے ہیں۔ جس طرح یہ خوبصورت سا نظم چھوٹے بھائی کے میسیج بکس میں نظر آیا۔ اور شور نے اُڑا لیا۔ آپ پڑھنا چاہیں تو شوق سے پڑھ سکتے ہیں کوئی پابندی نہیں ہے۔


کیا تم بھی
شام کی دہلیز پہ آس کا دیپ جلاتے ہو
اور کسی آوارہ پتے کی آہٹ پر
دروازے کی طرف بھاگ جاتے ہو

کیا تم بھی
درد چھپانے کی کوشش کرتے کرتے
اکثر تھک سےجاتے ہو
بلا وجہ مسکُراہنے لگتے ہو

کیا تم بھی
نیند سے پہلے پلکوں پہ ڈھیروں خواب سجاتے ہو
یا پھر بستر پہ لیٹ کر
روتے روتے سو جاتے ہو

کیا تم بھی
کسی کو دل کی گہرائیوں سے چاہتے ہو!!!

سوموار، 2 اگست، 2010

circus ka shear

چڑا کے پیٹ پر بکری کا بچہ گومیں گے
یہ دنیا اب ہمیں سرکس کا شیر کردے گی

اِس شعر کو نظروں کے سامنے گزے دو تین سال ہو چکیں ہیں۔ لیکن آج بھی ذہن پہ یہ اٹکا ہوا ہے۔ چلو اِس کو بلاگ کے حوالے کرکے دیکھتے ہیں شاید یہ ذہن سے نکل جائے۔

جمعہ، 30 جولائی، 2010

na shukray

جب کم ملتا ہے تو شور کرتے ہیں۔ اور جب بہت زیادہ ملتا ہے۔ تب بھی شور مچاتے ہیں۔ہر کوئی رونی سی صورت بنائے کہہ رہا تھا کہ پانی نہیں ہے۔ ہمارا پانی چور ہورہا ہے۔ ہمارے پیاسے مرنے کے دن قریب آرہے ہیں۔ تو اللہ پاک کو ہم پر رحم آگیا۔ اور اپنے رحمت کے دروازے کھول دیئے۔ تو پھر شکایت کر رہے ہیں۔ کہ سیلاب نے تباہی مچادی ہے۔ کیسے ناشکرے لوگ ہیں ہم ۔ کم پہ راضی نہیں ہیں زیادہ پر پریشان ہیں۔

بدھ، 28 جولائی، 2010

One Tips

نیٹ یوزر کی زیادہ تر تعداد اپنے دوستوں، رشتہ داروں سے بات کرنے کے لئے ہی نیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ اور اِن نیٹ یوزرز کی پسندیدہ سائٹ یاؤ ، فیس بک اور ٹیوٹر ہیں۔ آج کل جی میل بھی اِس لسٹ میں شامل ہو رہا ہے۔ لیکن جی میل میں نئے دوست بنانے کی گنجائش نہیں ہے۔(اگر ہے تو شور اِس بارے میں لاعلم ہے۔)
لیکن یہ اِس پوسٹ کی وجہ نہیں ہے۔ تو وجہ کیا ہے۔ ناراض نہ ہوجائیے۔ ابھی بتادیتے ہیں۔
چند دنوں سے شور کا نیٹ بیمار ہے۔ نیٹ کی نبض اتنی کمزور ہے۔ کہ مرگ کا کَٹکا لگا رہتا ہے۔ کسی بھی سائٹ کا اوپن ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ پر اَس زمانہ میں اگر فرہاد کے تیشئے میں دم کم نہیں ہے ۔ تو کیا ہوا ۔ اور بازار سے لے آئیں گے اگر سستا ہوا دودھ ۔ (پریشان مت ہوجائیں آج شور دیوانِ غالب پڑھ رہا تھا۔) ویسے بازار جانے کی ضرورت نہیں ۔ اگر آپ کا نیٹ کی رفتار بہت سلو ہے۔ اور آپ کے یہ تینوں سائٹ اوپن ہونے میں بہت دیر لگا رہے ہیں۔ یا آپ جلدی میں اِن سائٹس کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ تو اِس ترکیب کو استعمال کیجئیے ۔
یاؤ کے لئے ٹائپ کریں۔
http://sg.m.yahoo.com/
فیس بک کے لئے ٹائپ کریں۔
http://m.facebook.com/
اور ٹیوٹر کے لئے ٹائپ کریں۔
http://m.twitter.com/

سوموار، 26 جولائی، 2010

No Comments

ٹھنڈی ہوا جو روح میں اتر رہی ہے۔ کھڑکی سے آکر مجھے اتنا سکون دے رہا ہے۔ کہ جی چاہتا ہے۔ بس یونہی آنکھیں بند کر کے اِس ہوا کی ٹھنڈک کو محسوس کر تا رہوں۔ دھیمے سُروں میں بجنے والا خوبصورت گانا جسے سن کر “اُسے” میں اپنے آس پاس محسوس کرنے لگا ہوں۔
شور! یہ “اُسے” “کسے”ھم جان سکتے ہیں۔
نہیں۔کبھی نہیں۔

Tomorrow Today

کل

“شور! دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں جو مجھے بدل سکے”

آج

“شور! بیوی صرف دو باتیں بول دے نا انسان کی سات پشتیں بدل جاتی ہیں۔”

Bad Post

شور اپنے غائب ہونے کی خبر پڑھ کر مجھ سے ملنے کو مجبور ہوگیا۔ وہ بجھا بجھا سا تھا۔ پوچھا کیا بات ہے۔ تو جواب دیا کہ میں بلاگنگ چھوڑ نے کا ارادہ کر چکا تھا۔ لیکن ایک انجانے دوست نے کہا۔آپ کی ہمت کی داد دینی پڑے گی۔ (مجھے (شور کو) فوراً چنے کا جاڑ آگیا۔کیونکہ جب بھی کوئی شور کی تعریف کرتا ہے تو شور کے تصور میں چنے کا جاڑ آتا ہے) آپ لکھنے کے لئے وقت کیسے نکال پاتے ہو۔میں نے جواب دیا ۔ کہ میں تو بہت کم لکھتا ہوں۔ ہفتے میں ایک آدھا تحریر ، کچھ لوگ تو ہر دن ہر گھنٹے لکھتے رہتے ہیں۔ اُن کے ہمت کی داد دینی چاہیئے۔ میرا جواب سن کر وہ انجانا دوست کہنے لگا یہ تو صیحح ہے لیکن آپ کو بھی سلام ہے۔ میں تو چند جملے بھینہیں لکھ پاتا ہوں۔
اُس انجانےدوست کی باتوں سے مجھے بہت حوصلہ ملا۔ اور میں دوبارہ لکھنے کے بارے میں سوچنے لگا۔
یہ تو اچھی بات ہے شور! کہ کسی نے آپ کی حوصلہ افزائی کی ۔ لیکن اداس کیوں ہو۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہیئے۔
لیکن کل ایک انگریزی پیپر میں، میں نے کچھ ایسا پڑھا کہ مجھے اپنے تمام تحریر بکواس لگنے لگی۔ اور میرا دل چاہ رہا ہے کہ اب تک جتنا بھی میں نے لکھا ہے۔ اُن کو اٹھا کر کھڑکی کے باہر پھینک دوں۔
لیکن شور! ساری تحریریں تو کمپیوٹر پہ سیو اور انٹر نیٹ پہ پبلیش ہیں۔ میرے کمپیوٹر کو کھڑکی کے باہر پھینک دینا چاہتے ہو تو پھینک دو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ انٹر نیٹ پہ وہ تحریریں تو ہیں۔ اور اگر انٹرنیٹ کو کھڑکی سے پھینکنے کا آئیڈیا دماغ میں آرہا ہے۔ تو مجھے ضرور بتا دینا تاکہ میں بھی اُس پہ عمل کر سکوں۔
کچھ دیر کے لئے خاموشی چھا گئی۔
میں پھر کہنے لگا۔
شور آپ کو کسی نے کہا ہے۔ کہ آپ کی تمام تحریریں بکواس ہیں۔
نہیں۔
تو پھر ۔ کس بناء پر آپ اپنی تحریروں کو ضائع کرنا چاہتے ہو۔ اور ہاں وہ انگریزی پیپر اگر آپ کے پاس ہے۔ تو دکھاؤ
شور نے جیب سے ایک اخبار کا ٹکڑا نکال کر میرے حوالے کیا۔

Read, read, read. Read everything___trash, classics, good and bad, and see how they do it. Just like a carpenter who works as an apprentice and studies the most. Read! You’ll absorb it. Then write. If it is good, you’ll find out. If it’s not, throw it out the window.
(William Faulkner)

شور یہ بڑے لوگ کی بڑی باتیں صرف بڑے لوگوں کے لئے ہیں۔ ہم جیسے لوگوں کے لئے نہیں۔ چلو باہر چلتے ہیں۔
میں شور کو ساتھ لے کر باہر نکل گیا۔ کچھ دیر چلنے کے بعد میں نے اپنے جیب سے ایک کاغذ نکال کر چپکے سے پھینک دیا۔

جمعہ، 16 جولائی، 2010

shor is missing

کہیں دن ہوئے شور غائب ہے۔ میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا۔ لیکن کچھ بھی پتا نہیں چلا ۔کوئی کہہ رہا تھا۔ فٹبال کا عالمی مقابلہ دیکھنے میں مصروف ہیں۔ اِس لئے غائب ہے۔ جہاں تک مجھے پتا ہے۔ شور کو فٹبال سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں۔ اور اگر اُس کی وجہ فٹبال مقابلے ہیں تو اب وہ بھی ختم ہوچکے ہیں۔ کہیں وہ گرمیوں کی چھٹیاں منانے کو کہیں گیا تو نہیں۔ لیکن یہ بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ چھٹیاں وغیرہ طالب علموں کے لئے ہیں۔ اور شور کو اسکول چھوڑے ایک دہائی ہوچکا ہے۔ ویسے مجھے لگتا ہے۔ وہ مجھ ناراض یا بے زار ہوچکا تھا۔ اِس لئے اُس نے خود کو غائب کرلیا۔
چلو شور کو اُس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اتنا تو مجھے یقین ہے۔ وہ لوٹ کر ضرور آئے گا۔

منگل، 1 جون، 2010

powerful

شیر صرف اِس لئے شکار نہیں کرتا کہ وہ بھوکا ہوتا ہے۔ بلکہ کبھی کبھار شیر کے شکار کی وجہ اُس کا یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ سب سے طاقتور ہے۔

اتوار، 16 مئی، 2010

Aaye Khuda-salim marchant

ایک نئے سونگ کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد جب اُس نے سونگ کو پلے کیا تو پتا چلا غلط سونگ ڈاؤن لوڈ ہوا ہے۔ غصے سے سونگ کو ڈیلیٹ کردیا اگر سونگ غلط ہے تو رکھنے کا کیا فائدہ۔ پھر اُسے ویب سائٹ سے دوسرا سونگ ڈاؤن لوڈ کیا ۔ اِس بار سونگ صیحح تھا۔ یہ تو کوئی بات نہیں۔ ایسا ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ لیکن کہانی میں ٹوئسٹ تب آیا جب اُس کے دوست نے اُسے ایک نئے سونگ کی فرمائش کی کہ ڈاؤن لوڈ کرکے دے دو۔ وہ سونگ کون سا تھا وہی جو وہ صاحب غصے میں ڈیلیٹ کر چکا تھا۔ لہذا اُس بے وقوف نے دوبارہ وہ سونگ ڈاؤن لوڈ کیا اور اپنے دوست کو دیا۔
وہ بے وقوف کون ہے۔ یہ آپ تو جان ہی گئے ہیں۔ اگر نہیں تو بتا دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شور

وہ سونگ کون سا تھا یہ تو شور بتانا بھول گیا۔
سلیم مرچنٹ( انڈین آئیڈل 5 کے جج) کے آواز میں فلم کا نام ہے۔
پاٹ شالا
اے خدا

جمعہ، 14 مئی، 2010

powerful people

طاقتور کون ہے۔ اِس کا جواب شور کے پاس ایک دم سیدھا سادھا ہے۔
طاقتور اُس انسان کو کہتے ہیں۔ جو پورے دنیا کے سامنے جرم کرے۔ پھر بھی قانون کے گرفت میں نہ آئے۔

اتوار، 9 مئی، 2010

Meri Maa

آج مادر ڈے ہے۔ ویسے شور کا ماننا یہی ہے۔ کہ ہر بچے کے لیے پورا سال چوبیس گھنٹے مادر ڈے ہوتا ہے۔تارے زمین پر فلم میں یہ گانا ایک بچے کی احساسات ہیں۔ اور کبھی کبھی شور بھی اِسی کیفیت کا شکار ہوتا ہے۔ تو یہی گانا سنتا ہے۔

ہفتہ، 8 مئی، 2010

Shor

شور کا اک دوست تھا وہ ہر دوسرے تیسرے دن شور کے پاس آتا۔ اور شور کو مجبور کرتا کہ کمپیوٹر آن کرکے دے۔ پھر وہ کمپیوٹر پہ بیٹھ کر ہیڈفون لگا کر فل والیم میں گانے سنتا ، شور اُس سے کہتا تم بہرے ہوجاؤ گے۔ لیکن وہ شور کی ایک بات بھی نہیں سنتا۔ شور کے دوست کے ساتھ کیا مسئلہ تھا یہ شور آج تک سمجھ نہیں پایا۔
اورآج شور بہت پریشان ہے۔ اور فل والیم میں گانے سن رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بدھ، 5 مئی، 2010

labour day

مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں تعطیل ہوتی ہے۔ کچھ تنطیمیں اِس دن کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں۔ تقریریں ہوتی ہیں تالیاں بجتی ہیں۔ پھر اللہ اللہ خیرسلا۔ لیکن اِس چٹھی کے دن شاید ہی کسی مزدور کو بھی کبھی چٹھی ملا ہو۔ اور اُن تقریبات میں اکثریت اُن لوگوں کی ہوتی ہے۔ جو مزدوروں کے حقوق کے سب سے بڑے دشمن ہوتے ہیں۔ امریکہ میں ہونے والے اُس خونی واقع سے لے کر آج تک مزدور کی حالت وہی ہے۔ کچھ بھی بدلا نہیں۔ کل بھی مزدور کی حالت تلخ تھی اور آج بھی تلخ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔

سوموار، 26 اپریل، 2010

twitterfeed

شور کی عادت تھی کہ وہ جب بھی اپنے بلاگ پر کچھ لکھتا تو اس کا لنک فیس بک اور ٹویٹر پر ضرور دیتا ۔ پھر ایک سائٹ(سوری !سائٹ کا لنک شور کے دماغ سے نکل چکا ہے۔) سے شورکو یہ پتا چلا فیس بک اور ٹویٹر میں لنک دینے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ ایک بار صرف اُس سائٹ پر سائن اِن ہوجائیے۔ اپنا فیس بک اور ٹویٹر کا لنک دیے کر پھر آرام سے اپنے بلاگ پر لکھئیے ۔ آپ کی لکھے کو وہ سائٹ خودکار طریقے سے فیس بک اور ٹویٹر پر چلا جائے گا
شور نے فوراً اُس سائٹ پہ سائن اِن ہوکر تجربہ کرلیا۔ اور شور کو سائٹ بہت پسند آیا۔
سائٹ کا لنک یہ ہے۔
ٹویٹر فیڈ

Biggery Log

اکثر والدین کو شکایت ہے۔ کہ اُن کے بچے حد سے زیادہ بگڑ گئے ہیں۔ کوئی بچہ یوں ہی تو نہیں بگڑتا ۔ اُس بچے کو بگڑنے کے لئے بہت وقت لگتا ہے۔
مگر ھم لوگ کبھی بھی اِس بات کے بارے میں نہیں سوچتے۔ آخر سوچیں بھی تو کیوں ۔ ۔ ۔ھم لوگ اپنے بچوں کو معاشرے کا ایک اچھا فرد بنانے سے زیادہ اِس کو شش میں لگے ہوئے ہیں۔ کہ وہ ایک کامیاب فرد ہو۔ بلے وہ اچھا نہ ہوا۔ کامیاب ہونے کے لئے اُس نے جو بھی کیا ہو۔ دھوکہ ، جھوٹ، فریب، کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر کامیاب ہے۔ اُس کے جیب میں پیسہ ہے۔ بس ۔ ۔ ۔ ۔ پھر وہی شخص جب کسی اپنے سے بھی دھوکہ ، جھوٹ ، فریب کا فارمولا استعمال کرتا ہے۔ تو سب اُس کو بُرا کہنا شروع کردیتے ہیں۔ اب قصور کس کا ہے۔ اُس بچے کا یا اُن لوگوں کا ؟

بدھ، 21 اپریل، 2010

School age

ایک نیوز پیپر میں شور ایک آرٹیکل پڑھ کے بہت ہنس رہا تھا۔ شور سے ہسنے کی وجہ پوچھی ۔ تو وہ کہنے لگا اِس آرٹیکل میں ایک خاتون اپنے ڈھائی سال کے بچے کو شہر کے سب اچھے اسکولوں میں داخل کرنا چاہتا ہے۔ تو اِس خاتون کو کیا کیا مشکلات پیش آتے ہیں۔ وہ یہی پڑھ کر ہنس رہا تھا۔ اُس پورے آرٹیکل میں سب سے زیادہ پسند شور کو یہ واقع آیا۔ کہ ایک جگہ جب وہ خاتون اپنے بچے کو لے جاتا ہے۔تو اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ اِس کی عمر کیا ہے۔ خاتون جو عمر بتاتا ہے۔ اُس کو سن کر اسکول والے کہتے ہیں۔ کہ آپ کے بچے کی عمر ہمارے مقرر کردہ عمر سے ایک مہینے کم ہے۔ پھر وہ خاتون دوسری جگہ جاتی ہے۔ وہاں بھی عمر والا سوال پوچھا جاتا ہے۔ خاتون پھر اپنے بچے کی عمر بتاتا ہے۔ تو اسکول والے کہتے ہیں۔ ہمارے یہاں مقرر کردہ عمر سے آپ کے بچے کی عمر ایک مہینے زیادہ ہے۔
اپنا حال دیکھ کر وہ خاتون نئے شادی شدہ جوڑوں کو یہ مشورہ دیتی ہے۔ کہ وہ جب بھی بچے پلان کررہے ہوں تو اسکول والوں کے مقرر کردہ عمر کو ضرور دھیان میں رکھیں۔
تعلیم کا کیا حال ہوگیا ہے۔:ayokona:

سوموار، 19 اپریل، 2010

Zameer

شور اپنے ایک دوست کے بارے میں اکثر یہی سوچتا تھا کہ جو کچھ وہ کہتا ہے۔ وقت آنے پر ویسا ہرگز نہیں کرے گا۔ کیونکہ شور نے بہت ساری لوگوں کو دیکھا ہوا تھا جو کہتے تو بہت کچھ ہیں۔ ہر کسی کو نصحیت کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اپنے کہے باتوں پہ کبھی خود عمل نہیں کرتے۔ جن جن باتوں پہ وہ لوگوں کو روکتے ۔ موقع ملنے پر سب سے پہلے وہی لوگ اُس کام کو کرتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔لیکن آج شور نے دیکھا کہ شور کے اُس دوست نے وہی کیا جو اُس کے دل نے، ضمیر نے کہا۔ اُس نے یہ نہیں سوچا کہ ایسا کرکے اُس مالی نقصان مل جائے گا۔ ایسے لوگ معاشرے میں بہت کم ہوتے ہیں۔ جو اپنے بات پہ قائم رہتے ہیں۔ جب انھیں موقع ملتا ہے۔ وہ اُس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔ ایسے ذہنیت کے لوگوں کو عام طور پہ پاگل کہا جاتا ہے۔ لیکن شور ایسے لوگوں کو سلام کرتا ہے۔ کیونکہ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اتوار، 18 اپریل، 2010

Gori teri aakhian

لکی علی اور کویتا کرشنا مورتی کا ایک خوبصورت گیت چند سال پہلے شور نے ٹی وی پہ دیکھا تھا۔ شور اُس وقت سے وہ گیت ڈھونڈنے کی کوشش میں لگ گیا۔ لیکن وہ گیت نہ ملا۔ پھر شور کے پاس انٹرنیٹ آیا ۔ تو نیٹ پہ وہ گیت تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ مگر شور پھر ناکام ہوگیا۔ آج شور کچھ پرانے گانوں کا البم نیٹ پہ دیکھ رہا تھا۔ اُس کی نظر ایک البم پہ پڑی۔ البم کا ٹائیٹل پہ وہی گانا تھا جیسے شور چند سال پہلے ڈھونڈ ڈھونڈ تھک گیا تھا۔ گانا ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد ابھی شور ہیڈ فون پہ اُسے سن رہا ہے۔
اگر آپ کو بھی یہ خوبصورت گیت سنا ہے۔ تو درج ذیل لنک پر کلک کریں۔

گوری تیری آنکھیں

اتوار، 11 اپریل، 2010

mohabbat

میں نے شور سے پوچھا۔
"شور! محبت کے بارے میں معاشرے کا رویّہ کیا ہے۔ اچھا یا بُرا۔ "
شور نے مجھے غور سے دیکھا پھر کہنے لگا۔
"اچھا بھی ہے اور بُرا بھی۔"
"یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ اچھا بھی اور بُرا بھی؟"
"جب کوئی خود کسی سے محبت کرتے ہو تو بہت ہی اچھا فعل ہے۔ لیکن جب کوئی اُس کے کسی رشتے دار سے محبت کرتا ہے تو بہت ہی بُرا فعل ہے۔

ہفتہ، 10 اپریل، 2010

GreaseMonkey add-ons for blogger

شور کو موزیلا فائر فوکس اِس لئے پسند ہے۔ کیونکہ اِس کہیں کارآمد ایڈآن ہوتے ہیں۔جیسے کہ کل ایک ویب سائٹ سے شور کو ایک بہت ہی اچھے ایڈ آن کے بارے میں پتا چلا۔ ایڈ آن کا نام تھا گریسی منکی ۔ یہ ایک سمائل ایڈ آن ہے۔ اور یہ بلاگر ۔کوم کے لئے ہے۔
فائر فوکس کے ایڈ آن کو انسٹال کرنا بھی آسان ہے۔ سب سے پہلے ٹول مینو میں سے ایڈ آن کو سلیکٹ کریں۔ گیٹ آیڈ آن کے سرچ بکس مین گریسی منکی ٹائپ کریں۔ جب یہ ایڈ آن سرچ ہونے کے بعد اُس ایڈ آن کو انسٹال کریں۔ آپ کو براؤ زر ری اسٹارٹ کرنے کو کہا جائے گا۔ فائر فوکس کو ری اسٹارٹ کریں۔ پھر اِس جاوا اسکرپٹ فائل کو انسٹال کریں۔
اب اپنے بلاگر اکاؤنٹ پر لاگ آن ہوجائے۔ نیو پوسٹ کے کمپوز موڈ میں آپ کو کچھ سمائل نظرآئیں گے۔ تو جائے اور اِس نئے ایڈ آن کو استعمال کیجئیے۔

بدھ، 7 اپریل، 2010

shoaib malik sania mirza

آج شور بہت غصّے میں ہے۔اور یہ غلط ہےدراصل غصّہ شور میں ہے۔ لیکن کیوں۔ ۔ ۔ یہ تو پوچھئیے۔ بات یہ ہے۔ کہ آج کل شور ٹی وی آن کرتا ہے تو ہر چینل پہ شعیب ملک اورثانیہ مرزا ، فیس بک پہ لاگ ان ہوتا ہے وہاں بھی شعیب ملک اور ثانیہ مرزا ، کسی دوست سے ملے تو شعیب ملک اور ثانیہ مرزا ۔ شور کے سر میں درد ہونے لگا ہے اِن دونوں کے ذکر سے ، آخر کیا کیا ہے۔ اِس کے علاوہ اِن دونوں نے ۔ ایک نے شادی کی ، دوسرے نے منگنی کی ۔ پھرایک نے شادی کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ دوسرے نے منگنی کو ختم کیا ۔ پھر دو مشہور دل جلے ملے اب دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں۔ تو کیا ہوا۔ ہر دن ہزاروں لوگ شادیاں کرتے ہیں۔ لیکن لوگ اِس شادی کو ایسا سمجھ رہے ہیں جیسے کہ کسی نے ملک فتح کرلیا ہو۔
اگر شعیب ملک ایک کرکٹر نہ ہوتا اور ثانیہ مرزا ٹینس کی کھیل سے تعلق نہ رکھتی تو دونوں کی شادی کے مسئلے پر اتنا ڈرامہ ہوتا؟؟ شاید نہیں ۔
آخر میں اک بات شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کے اِس ڈرامے کو دیکھ کر شور کہ سمجھ میں بس اتنا آرہا ہے کہ یہ دونوں کے کھیل کے میدان میں کامیابی کا گراپ مسلسل نیچے کیوں جارہا ہے۔

منگل، 30 مارچ، 2010

Heroism

آج شور نے اک شاعر کے بارے میں اپنےایک واقف کار کے سامنے اک کتاب کا حوالہ دے کر کہا اِس کتاب میں شاعر کے متعلق کچھ یوں درج ہے۔ کہ یہ شاعر شاعری کے عروض سے واقف نہیں۔"
اتفاق سے شور کا وہ واقف کار اُس شاعر کا بہت ہی بڑا فین نکلا تھا۔بُرا مان گیا۔ شور نے صفائی دی کہ جناب یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں۔ بلکہ اِس کتاب میں درج ہے۔ لیکن وہ صاحب کہاں منانے والے تھے۔ فوراً کہنے لگے کہ اِس کتاب کا مصنف ضرور شاعرکے کسی مخالف گروہ سے تعلق رکھتا ہوگا۔ شور نے چھپ رہنا ہی مناسب سمجھا۔ کسی فین کے سامنے اُس کے ہیرو پر تنقید کرنا ، آبیل مجھے مار کے مترادف ہے۔
اُس واقف کار کے جانے کے بعد شور نے سوچا کہ کسی کو اپنا ہیرو مت بناؤ ۔ کیونکہ ہیرو بنانے کے بعد آپ اپنے ہیرو کے بارے میں کچھ بھی بُرا سننے کو تیار نہیں ہونگے۔

بدھ، 24 مارچ، 2010

shor ka damag kharab hai

ایک ہفتے سے زیادہ ہوا گیا ہے۔ شور کا کمپیوٹر خراب ہے۔ اور ساتھ ساتھ شور کا دماغ بھی۔ ویسے بھی شور کا دماغ کب ٹھیک تھا۔ جو اب خراب ہو گیا ہے ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اب شورکو بدل دینا چاہئیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کیا دماغ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں بلکہ اپنا کمپیوٹر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ویسے بھی اب یہ پرانا ہوچکا ہے۔ تین چار سے شور کو جھیل رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اور شور جیسے پاگل انسان کے ساتھ چار سال ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر تو دماغ کا خراب ہونا لازمی ہے۔۔

ہفتہ، 13 مارچ، 2010

purani dairy

آج شور کے زبان پر گلزار کے اک خوبصورت غزل کا یہ شعر اٹھکا ہوا ہے۔
خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں
اک پرانا خط کھلا انجانے میں
(اس غزل کو غلام علی نے "وصال" البم میں اپنی آواز دی ہے۔ غزل کو ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے اس لنک کو کلک کیجئیے)
وجہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وجہ یہ ہے کہ آج پرانے اخباروں کے نیچے شور کو اپنا اک پرانا رائٹنگ پیڈ مِلا۔ پیڈ میں کچھ پرانی تحریریں، کچھ اشعار اور کچھ چھوٹے چھوٹے نوٹس جو مختلف کتابوں سے لئے تھے ملے۔ اِن کو پڑھ کر شور ماضی کے کچھ خوشگوار یادوں میں کھوگیا۔
شور یہ سوچ رہا ہے کہ ڈائری لکھنا بھی کتنا اچھا کام ہے۔ یہ وہ لکھنا ہے جسے انسان بغیر کسی غرض کے لکھتا ہے۔ انسان اور لکھنے کا ساتھ تو ویسے ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔ اسکول کے ہوم ورک سے لے کر نوکری کے درخواست تک ، روزی روٹی کے لئے کبھی کسی فائل پر قلم گھسیٹنا ہو یا دیواروں پر نقش و نگار کرنا سب لکھنا ہے۔ لیکن ہر لکھنے میں خوشی سے زیادہ مجبوری ہے۔ اگر خوشی کا عنصر ہے تو بہت ہی کم۔ لیکن ڈائری میں لکھنا آپ کی مجبوری نہیں ہے۔ یہ آپ کی چاہت ہے، خوشی ہے۔ آج اگر آپ اپنے ڈائری میں کسی چیز کے بارے میں کچھ بھی لکھتے ہیں۔ چند سال کے بعد اگر وہی لکھا آپ کو دوبارہ پڑھنے کو مل جائے تو اک عجیب سی خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ اور کسی بھی احساس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔

منگل، 9 مارچ، 2010

Ahmaq log

شور نے اپنے دوست سے پوچھا
"تم کو فلمیں دیکھنے کا شوق کیوں نہیں ہے"
دوست نے مسکرا کر جواب دیا
"اُس فلم کے دیکھنے کا کیا فائدہ جب ہر فلم کے اختتام پر ہیرو کو کامیابی ملنا ہے "
ویسے بھی کچھ لوگ احمق ہوتے ہیں۔
لیکن کون لوگ ؟ ؟ ؟

جمعرات، 4 مارچ، 2010

ker bala tu..

اگر کوئی کسی کے ساتھ اچھے کریں اور مسلسل اچھا کرتے جائیں۔ اور وہ اِس اچھے پن کا بدلہ فریب سے دے۔ تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اِسے شخص کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں۔ یہ آپ جانیں لیکن شور یہی سمجھتا ہے ۔ کہ جو اچھا کرتا ہے زندگی میں کسی نہ کسی موڈ پہ اُس کا صلہ ضرور ملے گا۔ ہوسکتا ہے دیر سے ملے۔ لیکن ملے گا ضرور
یہ کتابیں باتیں نہیں ہیں ۔ بلکہ چند دنوں سے شور اپنے اردگرد کے کچھ لوگوں کو دیکھ کر کہہ رہا ہے۔

منگل، 23 فروری، 2010

Aman ki Asha

پاکستان اور بھارت کے دو بڑے میڈیا گروپ نے اس سال "امن کی آشا" کے نام سے اک مہم شروع کیا ہے۔ جنگ نیوز کے بلاگ پر اِس بارے میں یہ پوسٹ موجود ہے۔
امن کی آشا
"امن کی آشا" مہم کے سلسلے میں اک خوبصورت گیت بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جس کو بھارت کے مشہور سنگر شنکر مادیون اور پاکستان سے راحت فتح علی خان نے اپنی آواز دی ہے۔ اِس خوبصورت گیت کے شاعر کون ہیں یہ تو شور کو پتا نہیں۔ جیوٹی وی پر یہ گیت کہیں بار پلے ہوچکا ہے۔ لیکن شور اِس گیت کو اپنے کمپیوٹر پر بھی سننا چاہتا تھا۔ چند سائٹ چیک کرنے کے بعد یہ گیت مل گیا۔ اب اِس گیت کے لیرکس حاضر ہیں۔

دیکھائی دیتے ہیں دورتک اب بھی سایے کوئی
مگر بلانے سے وقت لوٹے نہ آئے کوئی
چلو نا پھر سے بچائیں دریّاں بجائیں ڈھولک
لگا کہ مہندی سریلی ٹپے سنائے کوئی
پتنگ اُڑائے چھتوں پہ چڑھ کے محلے والے
فلک تو سانجا ہے اُس میں پیچیں لگائے کوئی
اٹھو کبڈی کبڈی کھیلیں گے سرحدوں پر
جو آئے اب کہ تو لوٹ کر پھر نہ جائے کوئی

نظر میں رہتے ہو جب تم نظر نہیں آتے
یہ سُر بلاتے ہیں جب تم ادھر نہیں آتے
نظر میں رہتے ہو جب تم نظر نہیں آتے
یہ سُر بلاتے ہیں جب تم ادھر نہیں آتے



اور اس گیت کو یہاں سے ڈائون لوڈ کریں
امن کی آشا

جمعرات، 18 فروری، 2010

kiya kaha

ایک مشہور قول ہے۔
"کس نے کہا ہے یہ مت دیکھو، بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہا ہے۔"
لیکن اِس قول پر شاید ہی کبھی کسی نے عمل کیا ہو۔ لوگ اکثر یہ دیکھتے ہیں کہ" کس نے کہا ہے۔"اگر کہنے والا کوئی بڑا نام ہے تو ضرور صحیح کہہ رہا ہے۔ لیکن یہ ضروری تو نہیں کہ ہر بڑا اور مشہور نام صحیح کہے۔ اور ہر غیر معروف شخص جھوٹا ہو۔ ہوسکتا ہے بڑے نام والے نے اب اچھا کہنا چھوڑ دیا ہے۔ اب وہ اپنے کہے پر زیادہ دھیان نہیں دیتا۔ بس جو منہ میں آتا ہے کہہ دیتا ہے۔ ہوسکتا ہے اُس مشہور شخصیت نے اب زیادہ غور فکر کرنا چھوڑ دیا ہو۔ وہ صرف سطحی باتیں کرنے لگا ہو۔ اور کوئی اُس کی شہرت اور بڑے نام کی وجہ سے اُسے کچھ کہہ نہیں سکتا۔ اگر کسی کم تجربے کار شخص اُس کی غلطیوں کی نشاندہی کرے تو سارے لوگ اُس بدنصیب کو تب تک ہدفِ تنقید بناتے رہیں گے۔ جب تک کہ وہ اپنی غلطی مان نہ لے۔ شاید ہی کوئی یہ دیکھنا گوارا کرے گا۔ کہ اُس بے چارے نے جن جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ وہ صحیح بھی ہیں یا نہیں۔
دوسروں کی بات کو چھوڑئیے سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھئیے ۔ آپ نے اپنی زندگی میں جتنے بھی تحریریں، تقریریں پڑھی یا سنی ہیں اُن میں زیادہ تر کے نام سے آپ پہلے واقف تھے یا ہیں۔ کیونکہ آپ کے نزدیک یہ زیادہ اہم ہے۔ کہ "کس نے لکھا ہے"۔ پھر اُس "کس" کے نام کو آپ تولے گے۔ جو جتنا مشہور ہوگا آپ اُتنے شوق سے اُس کی تحریر یا تقریر کو پڑھے گیں۔

منگل، 16 فروری، 2010

SMS

موبائل فون ہے تو ایس ایم ایس کا ملنا لازمی ہے۔ چاہے آپ خود کسی کو ایس ایم ایس کریں۔ یا نا کریں۔ شور کو بھی چند دن پہلے ایک ایس ایم ایس ملا ۔ شور اِسے آپ کے ساتھ شیئر کررہا ہے۔
Naqqalon se Hoshyar
Asli SMS
ki Pehchan

Humara
har
SMS
Unnokha
Naya
Or
Ap k Meyar k
Mutabiq
hota hai

Puranay
Ghisay
Pitay
Or
Bazari
SMS Se
Parhaiz kijiye
Gum
Salgira
Bewafai
Funny
Hr veriety k liye Booking
ki jati hai
Neeeeeez....
Shadi Biya k liye
SMS order py tyar kiye jatey hain

اتوار، 14 فروری، 2010

Happy Valentines Day

موبائل کمپنی والے بار بار یہ بتا رہے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے آرہا ہے۔ اپنے پیارے کو کوئی پیار بھرا پیغام بھیج دئیے ۔ شور یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ یہ ویلنٹائن ڈے کیا بلا ہے۔ ایک پادری ویلنٹائن کی یاد میں سارے دنیا کے لوگ اِس دن کو مناتے ہیں۔ اُور اِس کے قصے میں کتنی حقیقت ہے۔ جھوٹ کتنا ہے۔ کیا دنیا میں یہی پہلا شخص تھا جس نے محبت کے لئے جان دے دی۔ شاید نہیں۔ لیکن کیونکہ مغرب کے لوگ 14 فروری کو محبت کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ اور ہم ٹھرے مغرب کے پیروکار بناء کچھ سوچے سمجھے بڑے جوش اور جذبے سے اِس محبت کے دن کو مناتے ہیں تو کیا غلط کرتے ہیں۔ موبائل فون کمپنی والوں کو لوگوں کی بیلنس پہ ہاتھ صاف کرنا ہے۔ ٹی وی چینل والوں کو اپنے ناظرین کو بے وقوف بنانے کا اک اور موقع مل رہا ہے۔ اور شور کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے بلاگ کے لئے ایک اور پوسٹ ۔
تو ہیپی ویلنٹائن ڈے

جمعہ، 12 فروری، 2010

Blog Anniversary

شور کا بلاگ اب ایک سال کا ہوگیا ہے۔ اور پتا ہی نہیں چلا۔ اس میں شور کی کیا غلطی ہے۔ آج کل وقت ہی اتنا تیزی سے جارہا ہے۔ کہ کچھ پتا نہیں چلتا کہ کب مہینہ گزر گیا کب سال ہوگیا۔ 3 فروری کو بلاگ کا سالگرہ تھا جو شور بھول گیا۔ آج منا رہا ہے۔ اس خوبصورت کارڈ کے ساتھ جو گوگل پہ ڈھونڈا ہے۔

شور کی طرف سے شور کے بلاگ کو اپنا پہلا سالگرہ مبارک ہو۔

بدھ، 10 فروری، 2010

kis liye likhon

شور جب بھی کسی سے کہتا ہے کہ وہ نیٹ پر بلاگ لکھتا ہے تو وہ شخص شور پر ہستا ہے ۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ انٹر نیٹ‌ پر لکھنا وقت کا برباد کرنا ہے۔ نیٹ پر صرف لڑکیاں سے گپیں لگا نا ہی بہترین ہے۔ روز چیٹ روم میں‌ نئے دوست بنائو ۔ فیس بک میں باتیں کرو۔ اس کے علاوہ یو ٹوب پر ویڈیو دیکھو۔ اپنے دوستوں کی باتوں کو سن کر شور کچھ دن کے لئے یہی کام کرنے لگتا ہے۔ اُس کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔ او وہ بلاگ سے دور ہوجا تا ہے۔ لیکن پھر وہ بور ہو کر واپس بلاگ لکھنے بیٹھ جاتا ہے۔ کیونکہ شور یہی سوچتا ہے۔ چیٹ روم میں وقت برباد کرنے سے بہتر نہیں کہ وہ کچھ سوچے اپنے خیالات کو یک جاہ کرے ۔ اُنھیں سمیٹے ۔ شور کے نزدیک یہ غلط بھی نہیں ہے ۔ اَس سے کسی انسان کو یہ بھی پتا لگ جاتا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔

جمعرات، 4 فروری، 2010

FireFox's-Add-ons for Rapidshare

انٹرنیٹ پہ ڈاؤن لوڈنگ کرنے والوں کے لئے ریپڑ شیئر کا نام نیا نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگ اِس کا استعمال کرچکے ہیں۔ ریپڑ شیئر پہ اگر آپ فری اکاؤنٹ کا استعمال کیا ہے۔ تو آپ کو یہ ضرور پتا ہوگا۔ کہ فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد دوسرا فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے بہت انتظار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر آپ فائر فوکس براؤزر استعمال کررہے ہیں۔ تو فائر فوکس میں اک بہت اچھا ایڈان ہے۔ جیسے استعمال کرکے آپ ریپڑ شیئر پہ اک فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد دوسرے فائل کچھ سیکنڈ کے بعد ڈاؤن لوڈ کر پائیں گے۔ یہ ایڈ آن کو حاصل کرنے کے لئے فائر فوکس کے ٹول مینو میں جاکر ایڈ ان پر کلک کریں۔
پھر گیٹ ایڈ ان کے ٹیب پر کلک کریں۔
سرچ بکس میں سکریپ اسکرین لکھ کر انٹر کریں۔
اسکریپ اسکرین کا انسٹال کریں۔
براؤزر کو ری اسٹارٹ کریں۔ پھر ریپڑ شیئر پر رکھے کسی فائل کا لنک اوپن کریں۔ لنک کے نیچے لیف سائیڈ پر اک بار نظر آئے گا۔ کچھ دیر کے بعد آپ سے ڈاؤن لوڈ ہونے والے فائل کو محفوظ کرنے کو کہا جائے گا۔ اپنی پسندیدہ لوکیشن پر فائل کیجئیے۔
اور شکریہ ادا کیجئیے ۔ شور کا نہیں بلکہ اِس سائٹ کا جس نے یہ خوبصورت ٹپس دیا تھا۔

http://blog.brothersoft.com/2010/01/26/download-from-rapidshare/

سوموار، 1 فروری، 2010

Shor tu pagal hai

چند دنوں سے شور یہ سن رہا ہے۔ کہ ہم دنیا میں دوسرے لوگوں کی مدت کرنے کے لئے آئے ہیں۔ شور نے اپنے اُس مہربان سے پوچھا کہ دوسرے کس لئے آئے ہیں۔ جواب ملا۔ ہر اک دوسرے کے کام کرنے کو آیا ہے۔ اور دوسرے ، تیسرے کا، تیسرا چوتھے کا، یہی دوسرا تیسرا چوتھا کرتے ہوئے گنتی بہت دور تک جائے گا۔ لیکن شور نے اک بے وقوفانہ سوال کیا۔ اِس گنتی میں اُس پہلے کا نمبر کب آئے گا۔ یا پہلا، نیکی کرکے بھول جائے۔ یا انتظار میں بیٹھ جائے کہ کب کوئی آئے اور اُس بے چارے پہلے کے ساتھ کچھ اچھا کرے۔ اور اگر اُس پہلے کا نمبر آتے آتے اتنی دیر ہوجائے جب وہ پہلا صرف اک نمبر رہ جائے۔ تو جانتے ہو جواب کیا ملا۔ شور تیرا تو دماغ خراب ہے۔

جمعرات، 28 جنوری، 2010

social networking site

انٹر نیٹ پر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ۔ یہی سمجھ میں آتا ہے کہ موجودہ دور کا انسان خود کو کچھ زیادہ ہی تنہا محسوس کرنے لگا ہے۔ آج کے دور میں جو بھی انٹر نیٹ کا استعمال کرتا ہے۔ اِن میں اکثریت ایسے ہیں جو صرف اور صرف نئے دوست بنانے، یا پرانے دوستوں سے بات کرنے کے لئے کسی نہ کسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر جاتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہوتے ہیں۔ اک آسان سا سوال ۔۔ اور اِس آسان سے سوال کا شور کے پاس سیدھا سا جواب ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں۔ جن کے آس پاس تو لوگوں کی بھیڑ ہے۔ لیکن اُس بھیڑ میں اُنھیں ایسا کوئی بھی نظر نہیں آتا جن سے یہ لوگ اپنی دل کی بات کرسکیں۔ اُنھیں کچھ سنا سکیں ۔ اُن سے کچھ سن سکیں۔ اُنھیں اپنے گھر،رشتے داروں اور دوستوں میں وہ کردار نظر نہیں آتا جن سے وہ اپنی خیالات شیئر کر سکیں۔ اِس کی اک وجہ تو ٹیکنالوجی کی وہ سہولتیں ہیں۔ جس نے انسان کی سوشل لائف کو بگاڑ دیا ہے۔ ٹی وی ، موبائل ، انٹرنیٹ کا یہ دورانسان کو اپنوں سے کتنا دور کئے ہوئے ہیں اس بات کا احساس اُسے تب ہوگا۔ جب اک دن کے لئے اُس سے یہ سہولتیں اچانک واپس لے لی جائیں۔

بدھ، 27 جنوری، 2010

SMSOye

شور کا ایک اور قول ہے۔
نئے راہوں پہ چلو، اپنے لئے نئے رستے ڈھونڈنے کی جستجو رکہو، اِس سے تمہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
چند دن پہلے فیس بک پر اک سائٹ کے بارے میں پتا چلا۔ اس سائٹ میں رجسٹر ممبر اپنے پسندیدہ ایس ایم ایس بھیج سکتے ہیں۔ رجسٹریشن کا طریقہ بھی بہت سیدھا ہے۔ اپنے پیغام بھیجنے کے لئے اپنے کمپیوٹر کے علاوہ موبائل فون کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ ہر ایس ایم ایس پر آپ کو پانچ پوائنٹ ملتے ہیں۔ اور اک دن میں زیادہ سے زیادہ بیس ایس ایم ایس کرنے کی اجازت ہے۔ موبائل فون سے ایس ایم ایس کرنے کے لئے
@CategoryName <space> Your message 03123696969
یا
@CategoryID <space> Your message 03123696969
یہ طریقہ کچھ ابتداء میں شور کے سمجھ میں نہیں آیا۔ تین چار دفعہ ریجکٹ بھی ہوئے۔ لیکن شور نے ہار نہیں مانا۔ آخر کار وہ کامیاب ہوگیا۔ اُس نے @ لے بعد لکھا "اردو پوئٹری" اور اسپیس دے کر بھیج دیا۔ اوپر والے موبائل نمبر پر، کچھ دیر کے بعد رپلائی ہوا "کہ آپ کو میسج کامیابی سے ایڈ ہوگیا ہے۔آپ کو پانچ پوائنٹ ملتے ہیں۔ اور آپ کا رینک ہے عام لڑکا"۔
شور ابھی تک 40 پوائنٹ کما چکا ہے اُس رینک ابھی تک "عام لڑکا" ہے۔
اُس سائٹ کا نام یہ ہے۔

http://www.smsoye.com/

بدھ، 20 جنوری، 2010

Ghulami

موجودہ معاشرے میں دو طرح کے غلام ہوتے ہیں۔ کچھ جسمانی طور پر اور کچھ ذہنی طور پر۔ جسمانی طور پر جو لوگ غلام ہوتے ہیں۔ وہ تو مجبور ہوتے ہیں۔ لیکن مجبور ہوتے ہوئے وہ باشعور بھی ہوتے ہیں۔ کیونکہ انھیں یہ شعور ہوتا ہے۔ کہ وہ غلام ہیں۔ اِس لئے وہ اپنے آپ کو غلامی سے نجات دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اکثر اوقات وہ غلامی سے خود کو آزاد بھی کرتے ہیں۔
لیکن وہ لوگ جو ذہینی طور پر غلام ہیں۔ اُن کی حالت قابلِ رحم ہے۔ قابل ِرحم اِس لئے کیونکہ وہ خود کو غلام نہیں سمجھتے ۔ جب کہ وہ خود کو غلام ہی نہیں سمجھتے اِس لئے اُن کے دماغ میں کبھی بھی آزاد ہونے کا خیال ہی نہیں آتا۔ کبھی کبھار تو وہ لوگ اپنی غلامی پر فکر بھی کرتے ہیں۔ اِسے لوگ ہر معاشرے میں موجود ہیں۔ ہاں اُن غلامی کی کیٹیگری میں فرق ضرور ہوتا ہے۔ لیکن وہ غلام ہوتے ہیں۔

adami ki qismain

آدمی تین قسم کے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جن کی ہر وقت ضرورت ہے۔بعض کی مثال دوا کے ہیں۔ کہ خاص وقتوں میں اُنکی ضرورت پڑتی ہے۔ اور بعض تو ایسے ہیں کہ بیماری کی طرح کسی بھی حال میں پسند نہیں۔

(مامون الرشید)

اتوار، 17 جنوری، 2010

Ahmed Faraz ki Ek Ghazal

آج شور اپنے کمپیوٹر میں محفوظ شاعری پڑھنے کے موڈ میں تھا۔ اُسے احمد فراز کی ایک خوبصورت غزل نظر آیا ہے۔ ویسے بھی موبائل والوں اور خاص طور پر ایس ایم ایس کرنے والوں نے فراز کے نام کو اتنا بدنام کردیا ہے۔ کہ لوگ بھول گئے ہیں فراز کی اصل شاعری کا کیا رنگ ہے۔ اور کس مزاج کا فراز شاعر ہے۔ شور کو بہت دکھ ہوتا ہے۔ جب وہ کوئی بکواس ایس ایم ایس پہ فراز کا نام آتا ہے۔
پتا نہیں کس چیز کا بدلا یہ لوگ فراز کے ساتھ لے رہے ہیں۔ اچھا تو وہ غزل پڑھئے جو آج پورا دن شور کے دماغ میں گردش کرتا رہا۔

غزل
ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو
کہاں گیا ہے مرے شہر کا مسافر تو

مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوں
ترا خیال کہ شاخ چمن کا طائر تو

میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی
میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تو

ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے
یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو

فضا اداس ہے، رت مضمحل ہے میں چپ ہوں
جو ہوسکے تو چلا آ کسی کی خاطر تو

فراز تو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیا
زمانہ صاحب زَر اور صرف شاعر تو

جمعرات، 14 جنوری، 2010

Internet Explorer Them,

کل سے شور پریشان تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وجہ بلاگ کا تھیم بیمار۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ تبصرے کا لنک غائب۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شور نے سوچا خرابی تھیم میں ہے۔ کیونکہ شور نے تھیم کے ساتھ کچھ چھیڑ خانی کی تھی۔ شور کو یہ تھیم بہت پسند تھا۔ وجہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تھیم انٹرنیٹ ایکسپلورر میں بھی اچھی طرح دیکھائی دیتا ہے۔ شور نے تھیم کے ویب سائٹ پر چیک کیا تو پتا چلا کہ تھیم کا نیا ورژن بھی رکھا ہوا ہے۔ ایک تھیم تبدیل کیا۔ اُس تھیم نے شور کو سوچ میں ڈال دیا۔ کس سوچ میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوچ یہ کہ پریویو میں پوسٹ پر لکھا ہوا تھا۔ تبصرہ بند ہے۔ شور نے تبصرہ کا لنک چیک کیا تو واقعی بند تھا۔ شور نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اپنا پرانا تھیم ایکٹیو کیا۔ اور تبصرے کے لنک کو اجازت دی تو تبصرے کا لنک نظر آ گیا۔ اب شور کے سمجھ میں آ گیا کہ کل سے شور جس بات کے لئے پریشان تھا۔ وہ پریشانی بے وجہ تھی۔ تھیم میں کوئی خرابی نہیں تھا۔ بلکہ شور نے غلطی سے تبصرے کو بند کررکھا تھا۔ اوریہی سوچتا رہا۔ کہ تھیم خراب ہے۔ شور بھی نا کتنا بے وقوف ہے۔

بدھ، 13 جنوری، 2010

shor in facebook

شور کا قول ہے۔
جو پروگرام سمجھ میں نہ آئے۔ اُس کو دل لگا کر سمجھنے کی کوشش کرو۔
شور اپنے قول کا پابند ہے۔ اِسی لئے وہ آج کل فیس بک کے پیچھے ہاتھ دو کر پڑا ہوا ہے ۔ اگر موسم سرد نہ ہوتا تو وہ نہا دھو کر فیس بک کے پیچھے لگ جاتا۔ مگر کیا کیا جائے کہ سخت سردی ہے اسی لئے صرف ہاتھ دھوکر فیس بک کے پیچھے پڑ گیا۔شور کو فیس بک کے بارے میں سنا تو تھا کچھ دوستوں نے اِس کی بڑی تعریف بھی کی تھی۔ مگر شور نے فیس بک کے ساتھ زیادہ چیڑخانی نہیں کی تھی۔ ویسے اگر شور یہ اعتراف کرلے کے اُسے فیس بک کا زیادہ سمجھ میں نہیں آیا تو زیادہ بہتر ہے۔ فیس بک کا اک اکاؤنٹ بھی بنا چکا تھا۔ لیکن کبھی استعمال کرنے کا نہیں سوچا۔ پھر اک دن یونہی خیال آیا کہ چلو دیکھ لیتے کیا چیز ہے۔ فیس بک آخر اس میں کیا بات ہے۔ جو لوگ اِس کے دیوانے ہیں۔ فیس بک میں ایسا کیا ہے۔ جیسے شور سمجھنے میں قاصر ہے۔ پھر شور کو اپنا وہ مشہور قول یاد آیا جو پوسٹ کے شروع میں درج ہے۔ چند دنوں سے شور کا فیس بک میں ہاتھ پاؤں مارہا ہے۔ اِس سے شور کے ہاتھ میں کبھی کچھ آجاتا ہے۔ تو کبھی کچھ۔ آج شور کے ہاتھ میں اک خوبصورت قطعہ لگا۔ وہی قطعہ میں آپ لوگوں کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔
یہ خوبصورت آئٹم اس لنک سے لیا ہے۔

جون ایلیا


بدھ، 6 جنوری، 2010

shor is happy

آج کچھ بات ضرور ہے۔ جو شور بہت خوش ہے۔ کیوں۔۔۔۔۔۔ یہ تو میرے سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ بس دل ہی دل میں
مسکرا رہا ہے۔ مجھے بھی کچھ نہیں بتا رہا ہے۔ ویسے مجھے نہیں لگتا کہ آج وہ کسی کو کچھ بتا نے کے موڈ میں نہیں ہے۔ انتظار کیجئیے وہ چند دن بعد خود ہی مجھے بتا دے گا۔ اور میں آپ لوگوں کو بتا دونگاں۔ فلحال ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شور بہت خوش ہے۔ اُسے خوش ہونے دیتے ہیں۔ اور ہم انتظار کرتے ہیں۔

shoes

جوتا یونہی تو جوتا نہیں بنتا۔ اُسے جوتا بننے کے لئے وقت اور حالات کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہت سارے مراحل سے گزرنا پڑتاہے۔ جب سارے مشکلات ختم ہوجاتے ہیں۔ تو اوروں کے لئے نہیں البتہ جوتے کے لئے نہیں مصیبتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ بے چارہ انسان کے پیروں کے نیچے دبنے پہنچ جاتا ہے۔ اور انسان اُسے ہر وقت دبا کر رکھتا ہے۔ کیونکہ انسان کو پتا ہوتا ہے ۔ یہ جب تک دبا ہوا ہے۔ تب تک ٹھیک ہے۔ لیکن جونہی یہ ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ تو سر پر پڑنا لازمی ہے۔ اور انسان یہ دعا گو ہوتا ہے کہ جوتا سر پر پڑتے وقت کسی صف ِ نا زک کے ہاتھ میں نہ ہو۔ ورنہ دن میں تارے اور رات میں سورج آنکھوں کے سامنے جگمگانے لگتے ہیں۔ ویسے جوتے کہ اپنی تو کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لیکن پرانے زمانے میں استاد کے جوتے سیدھے کرنا باعث ِ فکر ہوتا تھا۔ لیکن آج کل استاد کو جوتے دیکھانے کا رواج ہے۔ ویسے دو جگہ اُن کو چھپایا جانا بھی قابل ِ عمل ہوتا ہے۔ اک جگہ شادی میں۔ جو اس بات کا پیغام ہے ۔ کہ ابھی بھی وقت ہے بھاگ چل ورنہ بعد میں پچھتائے گا۔جب کہ دوسری جگہ مسجد جہاں اِن کو چھپایا یا چرایا جاتاہے ۔ تب یہ بہت یاد آتے ہیں۔ پیر ایک دم اپنے اوقات میں آجاتے ہیں۔ جوتے کو جوتا بنانے کا قصور کس کا ہے۔ یہ تو شاید کسی کو بھی پتا نہیں۔ البتہ جوتے کے قسمت کو بُرا کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ انسان اپنے آپ کو تو بُرا نہیں کہہ سکتا۔

منگل، 5 جنوری، 2010

mobi2weet

موبی 2 ویٹ کے بارے میں شور کو ڈان نیوز سے پتا چلا۔ رجسٹر ہونے کے ٹوئیٹر یا فیس بک کا اکاؤنٹ ہونا ضروری تھا۔ شور کے پاس دنوں اکاؤنٹ تھے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دنوں جگہ رجسٹر ہونے کے بعد شور نے اُنھیں اب تک استمعال نہیں کیا تھا۔ شور کا ویسے بھی زیادہ وقت بلاگ یا چیٹ روم میں گزرتا ہے۔ اِس لئے اُس کے پاس وقت ہی نہیں تھا۔ کہ اِن دونوں پر بھی ایک نظر ڈالے۔ شور دنوں کے پاسورڈ بھی بھول چکا تھا۔ چند دن پہلے اُسے اپنے فیس بک کا پاس ورڈ مل گیا۔ فیس بک میں اپلیکیشن میں موبی 2ویٹ والے اپلیکیشن کو رن کیا۔ وہاں اپنا فون نمبر دیا۔ اُس نے پن نمبر مانگا۔ شور نے اپنی جیبیں ٹٹولیں۔ فون کوجھنجوڑا۔ ای میل کو نھچوڑا۔ لیکن پن نمبر نہ ملا۔ اگلے دن شام کو موبائل فون پر ایک نئے نمبر سے ایک ایس ایم ایس مل گیا۔ یہ لیجئیے جناب پن نمبر۔ رات کو نیٹ آن کر کے پن نمبر انٹر کیا ۔ تو رجسٹریشن کی مبارک باد موصول ہوا۔ اب موبی 2 ویٹ پر لاگ اِن ہونے کے لئے شور کا موبائل نمبر اور وہی پن کوڈ انٹر کرنا ہے۔ بہت مشکل سے اور خدا خدا کر کے شور نے آخر کار موبی2ویٹ پر اپنے آپ کو رجسٹر کر لیا۔ ویسے ایک بات کہوں شور کے سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا ہے۔ کہ اَس کو کس طرح استعمال کرے۔ خیر اندھے کی لاٹھی آخر کب کام آئے گا۔ کہیں نہ کہیں تو لگ ہی جائے گا۔

جمعہ، 1 جنوری، 2010

new-year-night

سال کے 365 دنوں میں 365 تاریخیں جڑے ہوئے ہیں۔ ہر تاریخ کسی نہ کسی کے لئے اہم ہے۔ لیکن سال کا سب سے آخری دن بہت ساروں کے لئے اہم ہے۔ کچھ لوگ اِس کا جشن مناتے ہیں۔ جب کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے جو خوش منانا تو چاہتے ہیں۔ لیکن اُن کے پاس کوئی ہے نہیں ۔یا وہ اپنے غمِ دنیا میں ایسے الجھے ہیں کہ اُنھیں یہ یاد ہونے کے باوجود کچھ نہیں کرتے ہیں۔ ہاں کبھی کبھی کوئی بھولا بھکٹا سا ایس ایم ایس اُن کو یہ یاد دلاتا ہے۔ کہ آج سال کا آخری دن ہے۔
ایسے تمام لوگوں کے لئے شور کی طرف سے نیا سال مبارک ہو۔
آج نیو ائیر نائٹ ہے۔
اور آج رات چاند گرہن بھی ہے۔
ایک خاصیت بھی ہے ۔ کہ آج رات چاند کی چودھویں بھی ہے۔ واہ۔ لگتا ہے اِس سال قدرت کے نعمتیں خوب برسے گی۔