صفحات

جمعہ، 31 دسمبر، 2010

Sal ka AaKhari din

غالب نے کہا تھا"فکر دنیا میں سر کپاتا ہوں" ۔ لیکن یہاں تو سر کپانے کی بھی فرصت نہیں ہے۔ موبائل فون سے معلوم ہوا کہ آج دسمبر کی 31 تاریخ ہے۔ اور سال 2010کا آخری دن ہے۔ ۔ ۔ ۔ سال کا آخری دن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کیا فرق پڑتا ہے۔ "زیرہ کی جگہ ایک" آجا ئے گا۔ وہی شب و روز ، وہی صبح سے شام تک بوجھ ڈھوتا ہوا آدمی۔ ۔ ۔ہاں ۔ ۔مہینے کا آخری دن ہے تو کچھ اہمیت ہے۔ کچھ اُمید ہے۔ کہ پہلی تاریخ آنے والی ہے۔ جیب کی حالت میں کچھ بہتری آئے گی۔ کچھ خریدتے ہوئے دماغ حساب کتاب میں جمع(+)،نفی(-)اور بقایا کا کچھ کم سوچے گا۔
یہ نئے سال کا جشن منانے کا حق صرف بھرے پیٹ اور کھلے دل و دماغ والوں کو ہے۔ اور ہم لوگ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اتوار، 26 دسمبر، 2010

Noon Meem Rashid ki Nazam

پہلے فلمی گیتوں میں موسیقی کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی دھیان دیا جاتا تھا۔ لیکن آجکل کے فلمی شاعری میں ایسے عام اور بازاری لفظ استعمال ہوتے ہیں۔ جنھیں سن کر اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والا کوئی بھی عام سا سامعی اپنا سر پکڑ کر رہے جاتا ہے۔ لیکن اس دور میں اگر کسی فلم میں اچھے شاعر کا کلام لیا جاتا ہے۔ تو شور بطورِ خاص اُس گیت کو سنتا ہے۔
ڈان نیوز میں ایک فلم پیپلی لائیو کے بارے میں یہ لکھا ہوا تھا کہ اِس میں ن۔ م ۔ راشد صاحب کا ایک نظم لیا گیا ہے۔شور نے فوراً پیپلی لائیو کے گانے چیک کئے ۔ لیکن ایک گڑبڑ یہ ہوئی کہ نظم کے بول شور کے دماغ سے نکل گئے تھے۔ شور کو صرف یہ یاد رہا کہ اِس نظم کو انڈین اوکشن نے گایا ہے۔ پورا البم سننے کے بعد شور کو یہ نظم( زندگی سے ڈرتے ہو۔) ن۔ م۔ راشد صاحب کا لگ رہا ہے۔ اگر شور غلط ہے تو بخش دیجیئے گا۔

اتوار، 19 دسمبر، 2010

FastestFox

بڑے بُزرگ کہتے ہیں کہ سنی سنائی باتوں پر زیادہ یقین مت کرو۔ اور شور کہتا ہے کہ لکھے ہوئے باتوں پر تجربہ کرنے کے بعد ہی یقین کرو اور وہ بات اگر کمپیوٹر کے متعلق ہو تو بغیر تجربے کے ہرگز یقین نہ کرو۔
شور نے کہیں لوگوں سے سن رکھا تھا کہ موزیلا کا فائر فوکس استعمال کرو یہ باقی براوزر سے زیادہ تیز ہے۔ شور نے ڈاؤن لوڈ کرکے استعمال کیا۔ واقع رفتار میں کچھ تیز تھا۔ پھر اِس سائٹ سے یہ پتا چلا کہ فائر فوکس کو اور تیز کرنے کے لئے یہ ایڈ اُن استعمال کرو۔ایڈ اُن انسٹال کر کے چیک کیا تو زیادہ تیز دیکھنے میں نہیں  آئی۔ پھر شور نے ایک اور ایڈ اُن ڈھونڈا اور انسٹال کرکے دیکھ لیا۔ اس ایڈ اُن نے فائر  فوکس کو سچی میں تیز کردیا۔ اِس ایڈ اُن کی وجہ شور اگلے صفحہ، اگلے صفحہ کی مصیبت سے بچ گیا ہے۔ کیسے خود ہی تجربہ کیجئیے۔

جمعہ، 17 دسمبر، 2010

sms fraud

Ap jo koi bhi ho plz mere is num 03427163501 pe 25rps send kr do main hospital main musibt man hum plz Allah'rasol k waste mera yakin kro bad mai wapis kr don gi

From:+923327362363
2010/12/17
09:23AM

یہ ایس ایم ایس پڑھ کر شور کو کچھ رحم آگیا۔25 روپے بھی کوئی رقم ہے۔ شور اُس نمبر والے یا والی کو رقم بھیجنے کے لئے تیار ہوگیا۔ لیکن ایک خیال نے شور کو روک دیا۔ جس موبائل فون سے یہ محترم یا محترمہ نے ایس ایم ایس کیا اگر وہ اپنا موبائل فون کو اپنے آس پاس کے کسی بندے کو خریدنے کی آفر کرے۔ تو شور کو یقین ہے کہ کم سے کم سو روپے تو مل ہی جائیں گے۔
شور نے اِس ایس ایم ایس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ کیا جواب دیتا۔ آپ ہوتے تو کیا جواب دیتے۔

بدھ، 15 دسمبر، 2010

Bbcurdu Mobile Bulletin

بی بی سی اردو سروس سے ایک خوش خبری ہر روز سنائی گئی۔ کہ آپ اب پاکستان میں موبائل فون سے کسی بھی وقت بی بی سی اردو سروس سے خبریں سن سکتے ہیں۔ آپ کا نیٹ ورک کوئی بھی بس اپنے موبائل فون سے ڈائل کریں 44 74 74 اور بی بی سی اردو سروس سے خبریں سن لیجئیے۔
یہ ہوا بی بی سی اردو سروس کی خوش خبری ۔ اب پڑھئیے شور کی داستان۔
ایک دن شور نے اپنے موبائل فون سے بی بی سی اردو سروس سننے کے لئے نمبر ڈائل کیا کمپیوٹر صاحبہ کہنے لگی کہ نمبر غلط ہے۔ تین چار دفعہ ڈائل کیا۔ پر کمپیوٹر صاحبہ نے ڈانٹ دیا کہ آپ نے جو نمبر ڈائل کیا ہے وہ صیحح نہیں ہے۔ شور سمجھا شاید نمبر کچھ اور ہے اور وہ غلط نمبر ڈائل کررہا ہے۔(نمبر سچی میں غلط تھا) شور نے ہمت کر کے وارد نیٹ ورک سروس کے ہلپ لائن سے رابطہ کیا۔ ہلپ لائن والے بندے نے کہا کہ ہمارے پاس اس طرح کی کوئی معلومات نہیں ۔ کہ بی بی سی اردو سروس والوں نے ایسا کوئی سروس شروع کی ہے۔ شور نے ہلپ لائن والوں کو معلومات فراہم کی جناب بی بی سی اردو والوں نے یہ سروس شروع کئے ہوئے دو تین مہینے ہو چکے ہیں۔ ہلپ لائن والے نہیں مانے۔ اور یہی فرمایا کہ شاید دوسرے نیٹ ورک میں یہ سہولت ہو لیکن وارد میں نہیں ہے۔
مجبوراً شور نے موبائل کو جیب میں رکھ کر صبر کرلیا۔
چند دن پہلے شور کو ایک شناسے نے معلومات دی کہ میں نے ٹائم پاس میں بی بی سی اردو سروس کی خبریں موبائل فون سے سنی۔ جس نے بیلنس کا صفایا کردیا۔ یار یہ بی بی سی سروس والے بھی نا ٹیلی فون نمبر بتاتے وقت یہ نہیں بتایا کہ خبریں سننے کے لئے چارجز کتنے لگیں گے۔ اگر پہلے پتا ہوتا بیلنس کا یہ حال ہوگا تو خبریں سننے کے بجائے پیکج کر کے کسی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سے بات کر لیتا ۔
آج بی بی سی اردو سروس کے ویب سائٹ میں شور کی نظر اُس نمبر پہ پڑی تو یہ سارا کچھ یاد جو اوپر بیان ہوا۔ شکر ہے اُس دن شور کا نمبر غلط تھا ورنہ آج شور بھی یہی رو رہا ہوتا کہ یہ بی بی سی اردو سروس والے بھی نا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سوموار، 13 دسمبر، 2010

Complete Business Man

شور کے نزدیک ایک "مکمل بزنس مین" وہ ہے۔ جو اچھے دام ملنے پر اپنے آپ کو بھی بیچ دے۔

ہفتہ، 11 دسمبر، 2010

Naraz Savera Hai

ہر پوسٹ پر شور کچھ نہ کچھ لکھنا ضروری سمجھتا تھا اور سمجھتا ہے۔ لیکن آج کچھ بھی لکھنے کو دل نہیں چاہ رہا ہے۔ بس یہ گانا دیکھئیے۔ اور سوچئے کہ شور نے کیا سوچ کر یہ ویڈیو اپنے بلاگ پر رکھا ہے۔

جمعرات، 2 دسمبر، 2010

Follow Me, I Follow You

پچھلے دو تین دن سے شور فالو می,آئی فالو یو کا کھیل کھیل رہا ہے۔ ہوا یوں کہ شور نے اپنے بلاگ کو نیٹ ورکس پر رجسٹر کیا ہوا ہے۔ فیس بک پہ نیٹ ورکس کے ڈسکیشن والے صفحے پر فالو می, آئی فالو یو کے ٹاپکس پر چند لنک بنے ہوئے تھے۔ شور نے بنا کچھ سوچے سمجھے وہاں اپنے بلاگ کا ایڈریس دے دیا۔ شور کو ذرا بھی اُمید نہیں تھا کہ اُس کے بلاگ کو کوئی فالو کرے گا۔ لیکن چند منٹ کے بعد شور کے بلاگ میں کچھ نئے فالور نظر آئے۔ جواب میں شور نے بھی اُن بلاگروں کو فالو کیا۔ اُن کے شور بلاگ کو فالو کرنے سے شور کو کیا فائدہ ملے گا۔ یہ تو شور نہیں جانتا اور نا ہی شور کو پتا ہے کہ اُن کے بلاگ کو شور کے فالو کرنے سے کیا فائدہ ملے گا۔ اِن فالورز میں شاید ہی کوئی شور بلاگ کی زبان سمجھ سکتا ہے۔ کیونکہ وہ ٹھرے آقاؤں کے زبان یعنی انگریزی بولنے والے اور شور ٹھرا غلاموں کی زبان اردو بولنے والا۔ ایک پرانا محاورا ہے اگر غلط ہوا تو شور کو بخش دو۔ "یار من ترکی او من ترکی نمی دانم"
وہ اگر اردو نہیں جانتے تو ہم بھی انگریزی نہیں سمجھتے۔ لیکن پھر بھی فالو تو کر رہے ہیں ایک دوسرے کو ،یہی بہت ہے۔