صفحات

بدھ، 26 جنوری، 2011

ek shair

سب سے پہلے ایک شعر پڑھئیے۔
کبھی کبھی وہ ہمیں بے سبب بھی ملتا ہے
اثر ہوا نہیں اُس پر ابھی زمانے کا
یہ شعر اگر شور کی یاداشت خراب نہیں تو پروین شاکر کی ہے۔ لیکن اِس شعر کو یہاں لکھنے کامقصد یہ ہے۔ شور سوچتا تھا کہ صرف اُس کے آس پاس کے لوگ ہی مطلبی ہیں۔ بناء مطلب کے کسی سے ملتے جلتے نہیں۔ شور زیادہ تر قصور موجودہ دور کو دیتا ہے۔ لیکن شور کو یہ شعر پڑھنے کے بعد ایسا لگ رہا ہے۔ پروین شاکر کا واسطہ ایسے لوگوں سے پڑا ہے۔ جو مطلبی تھے جو بغیر وجہ کے کسی سے ملتے جلتے نہیں تھے۔

سوموار، 24 جنوری، 2011

blogger aur mobile net

کسی ماہر سے سنا تھا کہ موبائل فون نیٹ کے لیے الگ سے ایچ ۔ ٹی ۔ ایم ۔ ایل کوڈ ہوتے ہیں۔ کیا مصیبت ہے۔ شور کو ابھی تک سادہ ایچ ۔ ٹی ۔ ایم ۔ ایل کوڈ سمجھ میں نہیں آئے۔ اب وہ کہاں سے ڈھونڈے گا موبائل فون نیٹ یوزرز کے لیے الگ سے کوڈ۔ خیر کوئی بات۔
یونہی ایک دن شور کی نظر اس بلاگ کے اِس صحفہ پر پڑی۔ صحفے میں یہ لکھا ہوا تھا نیچے دیئیے گئے کوڈ کو اپنے بلاگ میں شامل کیجئیے آپ کا بلاگ موبائل فون میں بھی اچھا نظر آئے گا۔
شور نے فوراً آستین چڑا کر اس کوڈ کو ڈھونڈا
<b:include data='blog' name='all-head-content'/>
پھر اِس کے نیچے اِس کوڈ کو کاپی کر کے پیسٹ کیا اور تبدیلی کو محفوظ کر دیا۔
<meta content='IE=EmulateIE7' http-equiv='X-UA-Compatible'/>

<b:if cond='data:blog.isMobile'>

<meta content='width=device-width, initial-scale=1.0, user-scalable=0' name='viewport'/>

<b:else/>

<meta content='width=1100' name='viewport'/>
</b:if>
اب مسئلہ یہ ہے کہ کیسے پتا چلے گا  شور کا یہ تجربہ کام کر رہا ہے یا نہیں۔ اگر کام کررہا ہے تو اچھی بات ہے۔ اگر بے کار ہے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

نوٹ:۔ یہ ٹپس صرف بلاگر کے لئے ہے۔

جمعرات، 20 جنوری، 2011

Mout ka Khauf

انسان خوف زدہ تو پل بھر میں ہوجاتا ہے۔ لیکن اِس خوف کو جاتے جاتے وقت لگتا ہے۔ پرسکون بیٹھا ہوا انسان جتنی جلدی خوف زدہ ہوجاتاہے۔ اگر اُتنی جلدی وہ دوبارہ پرسکون ہوجائے۔ تو کتنا اچھا ہوتا۔ لیکن نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ انسان خوشیوں سے زیادہ اپنی دکھوں کو زیادہ یاد رکھتا اور کرتا ہے۔ اور ہر خوف کا اختتام موت پر ہے۔ موت کا خوف، یہ وہ خوف ہے۔ جس سے انسان شعوری یا لاشعوری طور پر ڈرتا ہے۔ انسان کے ذہن سے اگر موت کا خوف نکل جائے تو وہ کسی سے بھی نہیں ڈرے گا۔

سوموار، 10 جنوری، 2011

Sms fraud2

You have received a voice message from +923333000003.
Listen for voice message send Forward this msg to 828.
(Have no charges)


Voice mail number
3077791024u2u23

From: +923146481117
2011/01/09
10:00AM

آج شور نے یوفون کا سیم لگایا تو یہ میسج مِلا۔ پہلے سوچا 828 پہ یہ میسج فاروڈ کر کے آواز پیغام سن لیں۔ "828 پر اپنی بیلنس کی قربانی" دے کر اگر آواز پیغام کسی منحوس دوست کی ہو جیسے سن کر موڈ مزید خراب ہو تو بہت بُرا ہوگا۔ یہ سوچ کر شور نے میسج کو فاروڈ کرنے سے خود کو روک لیا۔ ویسے اگر شور یہ میسج فاروڈ کر لیتا تو اُس کا کتنا بیلنس قربان ہوتا۔

ہفتہ، 8 جنوری، 2011

Egypt's Fine Arts

کچھ بھی سمجھ شریف میں نہ آنے کے باوجود، پھر بھی اُس کام کو پسند کرنے والے شخص کے لئے آپ کون سا لفظ استعمال کریں گے؟ آپ سوچئیے ۔ تب تک شور فیس بک پر مصری آرٹ گیلری کے اِن خوبصورت نمونوں کو دیکھتا ہے۔ شور کو یہ پینٹنگ تو کسی کتاب کو ٹائٹل لگ رہا ہے۔

جمعرات، 6 جنوری، 2011

Hero Villain

ہر ہیرو ایک ولن اور ہر ولن ایک ہیرو ہوتا ہے۔ بس سوچ کا فرق ہے۔ ہم کس کے کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

بدھ، 5 جنوری، 2011

Bahis

ہم لوگ بھی عجیب ہیں بس ایک موضوع چاہئیے۔ بحث کرنے کیلئے، پھر بحث کرنے   شروع ہوجاتے ہیں۔ ہم اُس موضوع پر تب تک بحث کرتے جائیں گے۔ جب تک ہمیں کوئی دوسرا موضوع نہ مل جائے۔ پھر وہی لمبی اور لاحاصل بحث ۔ ذرا سوچئے اگر ہم لوگ اِس "بحث، بحث، بحث" کے بجائے "کام، کام، کام"پر توجہ دیتے تو کیا آج ہم اِس حال میں ہوتے۔

اتوار، 2 جنوری، 2011

Sal ka pehla post

جگجیت سنگھ کی یہ نظم کل سے ذہن میں گھوم رہا ہے۔ پہلا اور آخری مصرعہ مرزا غالب  کا  ہے ۔  باقی کس شاعر نے لکھا ہے کسی زمانے میں یاد تھا لیکن اب ذہن سے نکل گیا ہے۔ سال کا پہلا پوسٹ اِس خوبصورت نظم کے ساتھ


اک براہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

اک براہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

ظلم کی رات بہت جلدی ڈھلے گی اب تو
آگ چولہوں میں ہر اک روز جلے گی اب تو

بھوک کے مارے کوئی بچہ نہیں روئے گا
چین کی نیند ہر اک شخص یہاں سوئے گا

آندھی نفرت کی چلی گی نہ کہیں اب کے برس
پیار کی فصل اُگائے گی زمیں اب کے برس

ہے یقیں اب نہ کوئی شور شرابہ ہوگا
ظلم ہوگا نہ کہیں خون خرابہ ہوگا

اوس اور روپ کے صدمے نہ سہے گا کوئی
اب میرے دیس میں بے گھر نہ رہے گا کوئی

نئے وعدوں کا جو ڈالا ہے وہ جال اچھا ہے
رہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے