صفحات

پیر، 26 اپریل، 2010

twitterfeed

شور کی عادت تھی کہ وہ جب بھی اپنے بلاگ پر کچھ لکھتا تو اس کا لنک فیس بک اور ٹویٹر پر ضرور دیتا ۔ پھر ایک سائٹ(سوری !سائٹ کا لنک شور کے دماغ سے نکل چکا ہے۔) سے شورکو یہ پتا چلا فیس بک اور ٹویٹر میں لنک دینے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ ایک بار صرف اُس سائٹ پر سائن اِن ہوجائیے۔ اپنا فیس بک اور ٹویٹر کا لنک دیے کر پھر آرام سے اپنے بلاگ پر لکھئیے ۔ آپ کی لکھے کو وہ سائٹ خودکار طریقے سے فیس بک اور ٹویٹر پر چلا جائے گا
شور نے فوراً اُس سائٹ پہ سائن اِن ہوکر تجربہ کرلیا۔ اور شور کو سائٹ بہت پسند آیا۔
سائٹ کا لنک یہ ہے۔
ٹویٹر فیڈ

Biggery Log

اکثر والدین کو شکایت ہے۔ کہ اُن کے بچے حد سے زیادہ بگڑ گئے ہیں۔ کوئی بچہ یوں ہی تو نہیں بگڑتا ۔ اُس بچے کو بگڑنے کے لئے بہت وقت لگتا ہے۔
مگر ھم لوگ کبھی بھی اِس بات کے بارے میں نہیں سوچتے۔ آخر سوچیں بھی تو کیوں ۔ ۔ ۔ھم لوگ اپنے بچوں کو معاشرے کا ایک اچھا فرد بنانے سے زیادہ اِس کو شش میں لگے ہوئے ہیں۔ کہ وہ ایک کامیاب فرد ہو۔ بلے وہ اچھا نہ ہوا۔ کامیاب ہونے کے لئے اُس نے جو بھی کیا ہو۔ دھوکہ ، جھوٹ، فریب، کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر کامیاب ہے۔ اُس کے جیب میں پیسہ ہے۔ بس ۔ ۔ ۔ ۔ پھر وہی شخص جب کسی اپنے سے بھی دھوکہ ، جھوٹ ، فریب کا فارمولا استعمال کرتا ہے۔ تو سب اُس کو بُرا کہنا شروع کردیتے ہیں۔ اب قصور کس کا ہے۔ اُس بچے کا یا اُن لوگوں کا ؟

بدھ، 21 اپریل، 2010

School age

ایک نیوز پیپر میں شور ایک آرٹیکل پڑھ کے بہت ہنس رہا تھا۔ شور سے ہسنے کی وجہ پوچھی ۔ تو وہ کہنے لگا اِس آرٹیکل میں ایک خاتون اپنے ڈھائی سال کے بچے کو شہر کے سب اچھے اسکولوں میں داخل کرنا چاہتا ہے۔ تو اِس خاتون کو کیا کیا مشکلات پیش آتے ہیں۔ وہ یہی پڑھ کر ہنس رہا تھا۔ اُس پورے آرٹیکل میں سب سے زیادہ پسند شور کو یہ واقع آیا۔ کہ ایک جگہ جب وہ خاتون اپنے بچے کو لے جاتا ہے۔تو اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ اِس کی عمر کیا ہے۔ خاتون جو عمر بتاتا ہے۔ اُس کو سن کر اسکول والے کہتے ہیں۔ کہ آپ کے بچے کی عمر ہمارے مقرر کردہ عمر سے ایک مہینے کم ہے۔ پھر وہ خاتون دوسری جگہ جاتی ہے۔ وہاں بھی عمر والا سوال پوچھا جاتا ہے۔ خاتون پھر اپنے بچے کی عمر بتاتا ہے۔ تو اسکول والے کہتے ہیں۔ ہمارے یہاں مقرر کردہ عمر سے آپ کے بچے کی عمر ایک مہینے زیادہ ہے۔
اپنا حال دیکھ کر وہ خاتون نئے شادی شدہ جوڑوں کو یہ مشورہ دیتی ہے۔ کہ وہ جب بھی بچے پلان کررہے ہوں تو اسکول والوں کے مقرر کردہ عمر کو ضرور دھیان میں رکھیں۔
تعلیم کا کیا حال ہوگیا ہے۔:ayokona:

پیر، 19 اپریل، 2010

Zameer

شور اپنے ایک دوست کے بارے میں اکثر یہی سوچتا تھا کہ جو کچھ وہ کہتا ہے۔ وقت آنے پر ویسا ہرگز نہیں کرے گا۔ کیونکہ شور نے بہت ساری لوگوں کو دیکھا ہوا تھا جو کہتے تو بہت کچھ ہیں۔ ہر کسی کو نصحیت کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اپنے کہے باتوں پہ کبھی خود عمل نہیں کرتے۔ جن جن باتوں پہ وہ لوگوں کو روکتے ۔ موقع ملنے پر سب سے پہلے وہی لوگ اُس کام کو کرتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔لیکن آج شور نے دیکھا کہ شور کے اُس دوست نے وہی کیا جو اُس کے دل نے، ضمیر نے کہا۔ اُس نے یہ نہیں سوچا کہ ایسا کرکے اُس مالی نقصان مل جائے گا۔ ایسے لوگ معاشرے میں بہت کم ہوتے ہیں۔ جو اپنے بات پہ قائم رہتے ہیں۔ جب انھیں موقع ملتا ہے۔ وہ اُس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔ ایسے ذہنیت کے لوگوں کو عام طور پہ پاگل کہا جاتا ہے۔ لیکن شور ایسے لوگوں کو سلام کرتا ہے۔ کیونکہ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔