صفحات

بدھ، 4 اگست، 2010

kiya tum bhi

شور کے چھوٹے بھائی کا موبائل پر 24 گھنٹے ایس ایم ایس کی گھنٹی بجتی رہتی ہے۔ اور شور کو یہ گھنٹی بلکل پسند نہیں ۔ شور کا موبائل شور کی طرح اک دم خاموش ہے۔ عموماً کمپنی کی طرف سے بھیجے گئے پیغامات ہی موبائل کی خاموشی کو توڑتے ہیں۔ شور کو اِس بات کا نہ تو دکھ ہے نہ خوشی ہے۔ اور وہ اِس بات کی حقیقت سے بھی واقف ہے۔ دوستوں کی طرف سے بھیجے گئے یہ پیغامات میں زیادہ تر تو فضول سے لطیفے یا گھٹیا اشعار ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ پیغامات واقعی ہی لاجواب ہوتے ہیں۔ جس طرح یہ خوبصورت سا نظم چھوٹے بھائی کے میسیج بکس میں نظر آیا۔ اور شور نے اُڑا لیا۔ آپ پڑھنا چاہیں تو شوق سے پڑھ سکتے ہیں کوئی پابندی نہیں ہے۔


کیا تم بھی
شام کی دہلیز پہ آس کا دیپ جلاتے ہو
اور کسی آوارہ پتے کی آہٹ پر
دروازے کی طرف بھاگ جاتے ہو

کیا تم بھی
درد چھپانے کی کوشش کرتے کرتے
اکثر تھک سےجاتے ہو
بلا وجہ مسکُراہنے لگتے ہو

کیا تم بھی
نیند سے پہلے پلکوں پہ ڈھیروں خواب سجاتے ہو
یا پھر بستر پہ لیٹ کر
روتے روتے سو جاتے ہو

کیا تم بھی
کسی کو دل کی گہرائیوں سے چاہتے ہو!!!

پیر، 2 اگست، 2010

circus ka shear

چڑا کے پیٹ پر بکری کا بچہ گومیں گے
یہ دنیا اب ہمیں سرکس کا شیر کردے گی

اِس شعر کو نظروں کے سامنے گزے دو تین سال ہو چکیں ہیں۔ لیکن آج بھی ذہن پہ یہ اٹکا ہوا ہے۔ چلو اِس کو بلاگ کے حوالے کرکے دیکھتے ہیں شاید یہ ذہن سے نکل جائے۔

جمعہ، 30 جولائی، 2010

na shukray

جب کم ملتا ہے تو شور کرتے ہیں۔ اور جب بہت زیادہ ملتا ہے۔ تب بھی شور مچاتے ہیں۔ہر کوئی رونی سی صورت بنائے کہہ رہا تھا کہ پانی نہیں ہے۔ ہمارا پانی چور ہورہا ہے۔ ہمارے پیاسے مرنے کے دن قریب آرہے ہیں۔ تو اللہ پاک کو ہم پر رحم آگیا۔ اور اپنے رحمت کے دروازے کھول دیئے۔ تو پھر شکایت کر رہے ہیں۔ کہ سیلاب نے تباہی مچادی ہے۔ کیسے ناشکرے لوگ ہیں ہم ۔ کم پہ راضی نہیں ہیں زیادہ پر پریشان ہیں۔

بدھ، 28 جولائی، 2010

One Tips

نیٹ یوزر کی زیادہ تر تعداد اپنے دوستوں، رشتہ داروں سے بات کرنے کے لئے ہی نیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ اور اِن نیٹ یوزرز کی پسندیدہ سائٹ یاؤ ، فیس بک اور ٹیوٹر ہیں۔ آج کل جی میل بھی اِس لسٹ میں شامل ہو رہا ہے۔ لیکن جی میل میں نئے دوست بنانے کی گنجائش نہیں ہے۔(اگر ہے تو شور اِس بارے میں لاعلم ہے۔)
لیکن یہ اِس پوسٹ کی وجہ نہیں ہے۔ تو وجہ کیا ہے۔ ناراض نہ ہوجائیے۔ ابھی بتادیتے ہیں۔
چند دنوں سے شور کا نیٹ بیمار ہے۔ نیٹ کی نبض اتنی کمزور ہے۔ کہ مرگ کا کَٹکا لگا رہتا ہے۔ کسی بھی سائٹ کا اوپن ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ پر اَس زمانہ میں اگر فرہاد کے تیشئے میں دم کم نہیں ہے ۔ تو کیا ہوا ۔ اور بازار سے لے آئیں گے اگر سستا ہوا دودھ ۔ (پریشان مت ہوجائیں آج شور دیوانِ غالب پڑھ رہا تھا۔) ویسے بازار جانے کی ضرورت نہیں ۔ اگر آپ کا نیٹ کی رفتار بہت سلو ہے۔ اور آپ کے یہ تینوں سائٹ اوپن ہونے میں بہت دیر لگا رہے ہیں۔ یا آپ جلدی میں اِن سائٹس کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ تو اِس ترکیب کو استعمال کیجئیے ۔
یاؤ کے لئے ٹائپ کریں۔
http://sg.m.yahoo.com/
فیس بک کے لئے ٹائپ کریں۔
http://m.facebook.com/
اور ٹیوٹر کے لئے ٹائپ کریں۔
http://m.twitter.com/